اعمال میں سچائی

الجمعة 7 رجب 1442ﻫ admin
اعمال میں سچائی

•علم کے مطابق عمل کرنا،گفتار اور کردار میں مطابقت،جیسے کہ اللہ تعالی نے حضرت شعیب علیہ السلام سے متعلق فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا :
{وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَآ اَنْـهَاكُمْ عَنْهُ}
[سورة هود:88]
ترجمہ
(اور میں یہ نہیں چاہتا کہ جس کام سے تجھے منع کروں میں اس کے خلاف کروں)
اللہ تعالی نے ایسے لوگوں کا انکار کیا ہے جو اپنے پاس موجود شرعی علم کے مطابق خود عمل نہیں کرتے ہیں۔
فرمایا:
{اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَاَنْتُـمْ تَتْلُوْنَ الْكِتَابَ ۚ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ}
[سورة البقرة:44]
ترجمہ
(کیا لوگوں کو تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو، پھر کیوں نہیں سمجھتے۔)
ایک اور جگہ فرمایا:
{يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ○كَبُـرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّـٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ}
[سورة الصف: 2,3]
ترجمہ
(اے ایمان والو! کیو ں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں۔اللہ کے نزدیک بڑی نا پسند بات ہے جو کہو اس کو کرو نہیں۔)
•راہ حق میں اپنے ظاہر اور باطن کو یکساں اور ایک جیسا رکھنا،یعنی باطن بھی ظاہر جیسا ہو یا اس سے بھی بہتر ہو ،تاکہ ایک مسلمان جو نیک اعمال بجا لا رہا ہے وہ اس کے اندرونی نیک جذبات کا آئینہ اور ترجمان ہو ،اس کے لئے مجاہدے کی ضرورت ہوتی ہے یہاں تک کہ انسان اپنے ظاہر و باطن کو ایک سا بنائے،ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ دل میں کچھ اور ظاہر میں کچھ:
{سَيَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَـآ اَمْوَالُنَا وَاَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا ۚ يَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِـهِـمْ مَّا لَيْسَ فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ ۚ}
[سورة الفتح:11]
ترجمہ
(عنقریب آپ سے وہ لوگ کہیں گے جو بدویوں میں سے پیچھے رہ گئے تھے کہ ہمیں ہمارے مال اور اہل و عیال نے مشغول رکھا ہے آپ ہمارے لیے مغفرت مانگیے، وہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے)
{قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ ۗ هُـمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْـهُـمْ لِلْاِيْمَانِ ۚ يَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِـمْ مَّا لَيْسَ فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ ۗ وَاللّـٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يَكْـتُمُوْنَ }
[سورة آل عمران:167]
ترجمہ
(انہوں نے کہا اگر ہمیں علم ہوتا کہ آج جنگ ہو گی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے، وہ اس وقت بہ نسبت ایمان کے کفر سے زیادہ قریب تھے، وہ اپنے مونہوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں، اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے)
•عمل میں یقین کامل،پختگی،وہ تمام اعمال جو ایک صالح مسلمان بجا لاتا ہے اس میں یقین ہونا چاہئے،اس کے تمام حقوق ادا ہونے چاہئے کسی قسم کی کوئی کمی زیادتی نہ ہو ،کسی قسم کا ظلم اور دھوکہ دہی نہ ہو،یوں ایک مسلمان درست طریقے سے نیکی کرتا ہے،اپنے آپ اور دوسروں کے ساتھ اچھائی کرتا ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
《اللہ تعالی پسند فرماتا ہے جب تم میں سے کوئی شخص عمل کرے تو اسے اچھی طرح کرے》
حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
《جو ہم(مسلمانوں) پر ہتھیار اٹھا لے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے》
اعمال میں صداقت اور پختگی یوں آسان کام نہیں اس کی قیمت چکانی اور قربانی دینی پڑتی ہے،اس کے لئے مجاہدہ کرنا پڑتا ہے،اپنے نفس سے لڑنا پڑتا ہے،یہ صرف مخلص بندے ہی کرسکتے ہیں جن کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا:
{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِىْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّـٰهِ ۗ وَاللّـٰهُ رَءُوْفٌ بِالْعِبَادِ }
[سورة البقرة:207]
ترجمہ
(اور بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان بھی بیچ دیتے ہیں، اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔)
اعمال میں صداقت و سچائی اس بات کی متقاضی ہوتی ہے کہ بندہ اللہ تعالی کے حکموں کے آگے سر تسلیم خم کرے اور منع کردہ چیزوں سے رک جائے،اس کی کتاب کو مانیں اور اس کے رسول کی اتباع کرے.

تَعصي الإِلَهَ وَأَنتَ تُظهِرُ حُبَّهُ
هَذا مَحالٌ في القِياسِ بَديعُ

لَو كانَ حُبُّكَ صادِقاً لَأَطَعتَهُ
إِنَّ المُحِبَّ لِمَن يُحِبُّ مُطيعُ

تو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے
اور اس سے محبت کا دعوی بھی
بخدا یہ دونوں کا جمع ہونا محال ہے
اگر تیری محبت سچی ہوتی تو اس کی اطاعت کرتا چونکہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کا فرماں بردار ہوتا ہے ۔
امام غزالی (خلق المسلم) میں فرماتے ہیں:”سچا عمل وہ ہوتا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہ ہو اور یہ یقین کی کوکھ سے پیدا ہوتا ہے،اس کے ساتھ خواہشات نہیں ہوتے یہ اخلاص کا ساتھی ہوتا ہے،اس میں کوئی کجی نہیں ہوتی ہے،چونکہ یہ حق سے کھلتا ہے،ابراہیم الخواص فرماتے ہیں:سچے کو آپ ہمیشہ کسی فرض کی ادائیگی یا نفل کی بجا آواری میں مصروف دیکھیں گے۔
سچائی کے ساتھ ہمیشگی کریں اور سچ والوں میں سے بن جائیں،اس میں نجات اور کشادگی ہے۔
سچ انسان کی سیرت اور اس کے اندر مدفون خزینوں سے پردہ ہٹاتا ہے،جس طرح جھوٹ بندے کے خبث باطن اور بری سیرت کا پردہ چاک کرتا ہے،سچ نجات ہے،جھوٹ ہلاکت ہے؟سچ عقل سلیم رکھنے والوں کیلئے محبوب ہے،جھوٹ مذموم ہے جو فطرت سلیمہ کو تباہ کرتا ہے ۔

شاركنا بتعليق





بدون تعليقات حتى الآن.