یہ سمجھنا غلط ہے کہ اعصابی مریض سے شرعی احکام ساقط ہو جاتے ہیں عقیدے سے متعلق غلطیاں

الأثنين _12 _أكتوبر _2026AH admin
یہ سمجھنا غلط ہے کہ اعصابی مریض سے شرعی احکام ساقط ہو جاتے ہیں عقیدے سے متعلق غلطیاں

محترم فضيلت الشیخ رحمہ اللہ تعالى سے پوچھا گیا:
ایک شخص ڈاکٹر کے بقول ایك دائمی اعصابی بیماری میں مبتلا ہے، اور اس بیماری کی وجہ سے اسے بہت سی مشکلات کا سامنا ہے، مثلاً والدین پر آواز بلند کرنا، رشتہ داروں سے قطع تعلقی، بے چینی، شرم و جھجك اور خوف وغیرہ۔ کیا اس شخص سے شرعی احکام کی پابندی ساقط ہو جائے گی؟ اور ان اعمال کی وجہ سے اس پر کوئی گناہ ہوگا؟ آپ حضرات اسے کیا نصیحت فرماتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
انہوں نے جواب دیا: جب تك اس کی عقل قائم ہے، اس سے شرعی احکام ساقط نہیں ہوں گے۔ البتہ اگر اس کی عقل زائل ہو جائے اور وہ اپنے ہوش و حواس پر قابو نہ رکھ سکے تو اس صورت میں وہ معذور ہوگا۔ میری نصیحت یہ ہے کہ وہ کثرت سے دعا کرے، اللہ عزوجل کا ذکر کرے، استغفار کرے، اور جب اسے غصہ آئے تو شیطانِ مردود سے اللہ ﷻ کی پناہ مانگے۔ امید ہے کہ اللہ سبحانه وتعالیٰ اس کی یہ تکلیف دور فرما دے گا۔
حوالہ : مجموع فتاوى ورسائل العثيمين، ۱۷/۴۶۵۔

شاركنا بتعليق


2 × اثنان =




بدون تعليقات حتى الآن.