نفس کے اعتبار سے لوگوں کی دو قسمیں
الخميس _20 _مارس _2025AH admin
ایک قسم انکی ہے جس میں نفس کامیاب ہوا ،بندے کو اپنے ماتحت کیا،نفس نے اسے اپنے آرڈرز پر چلنے پر مجبور کر دیا ۔
ایک قسم وہ ہے جنہوں نے اپنے نفوس پر قابو پا لیا،اپنے احکامات کے پابند کیا،نفس کو اپنے طریقے سے چلایا ۔
بعض عارفین نے کہا ہے کہ طالبین یعنی تلاش حق پر نکلنے والوں کو وہاں منزل مل جاتی ہے جہاں وہ اپنے نفس پر قابو پانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جو اپنے نفس پر کنٹرول رکھ سکے وہ کامیاب و کامران ٹھرے۔
نفس انسان کو ہلاک کرتا ہے ،خسارے میں ڈال دیتا ہے
اللہ تعالی نے فرمایا :
فَاَمَّا مَنْ طَغٰى (37) وَاٰثَـرَ الْحَيَاةَ الـدُّنْيَا (38)
فَاِنَّ الْجَحِـيْمَ هِىَ الْمَاْوٰى (39)
ترجمہ
سو جس نے سرکشی کی۔اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔سو بے شک اس کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔
اور نفس کامیاب بھی کراتا ہے ۔
فرمایا :
وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْـهَـوٰى (40)
فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِىَ الْمَاْوٰى (41)
{النازعات:37–41}
ترجمہ
اور لیکن جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا رہا اور اس نے اپنے نفس کو بری خواہش سے روکا۔
سو بے شک اس کا ٹھکانا بہشت ہی ہے۔
نفس انسان کو سرکشی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دینے کی طرف بلاتا ہے اللہ تعالی انسان کو اپنی طرف بلاتا ہے،ڈراتا ہے،نفس کی پیروی سے روکتا ہے۔
چنانچہ دل دو بلانے والوں کی پکار کے درمیان ہوتا ہے۔
گاہے وہ ایک بلانے والے کی طرف مائل ہوتا ہے گاہے دوسرے کی طرف ۔
یہی مقامِ امتحان و آزمائش ہے۔
حواله :
إغاثة اللهفان من مصايد الشيطان ص 126
شاركنا بتعليق
بدون تعليقات حتى الآن.