توحید پر تربیت

الخميس _20 _مارس _2025AH admin
توحید پر تربیت

توحید پر تربیت کے عناصر :
توحید کو دل پر مضبوط کرنے والے کچھ امور ہیں جن کا ہم مختصر تذکرہ کرتے ہیں ۔
علم : اس بات کا علم ہے کہ اللہ تعالی عظیم ہے،اس کیلئے مخلص ہونا،اس پر توکل کرنا اس کے حق کی معرفت کرنا ۔
یہ کہ اللہ تعالی بادشاہ ہے،تمام چیزوں کی تدبیر کرنے والا مدبر ہے،تمام چیزوں سے بڑا ہے تمام چیزوں کا علم رکھتا ہے،تمام چیزوں پر قادر ہے،اسی سے شروع ہوئی ہیں اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔
توحید ربوبیت ،توحید الوھیت اور توحید اسماء و صفات کی معرفت حاصل کرنا ،توحید ربوبیت ہی توحید معرفت اثبات اور خبر ہے اللہ تعالی کو اپنے کاموں اور افعال میں اکیلا ماننا ہے ۔
توحید الوھیت توحید بندگی ہے توحید طلب ہے یعنی بندوں کے افعال میں انکی عبادات میں اللہ تعالی کو اکیلا ماننا اسی کیلئے تمام عبادات کو خاص کرنا ۔
توحید اسماء و صفات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے لئے جو نام اور صفات پسند کئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کیلئے بیان کئے انہیں تشبیہ،تمثیل اور تعطیل کے بغیر ماننا توحید اسماء و صفات ہے۔
توحید کی حقیقت کا علم :
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حقیقت توحید یہ ہے کہ دل کو اللہ کی طرف کھینچ لانا گناہوں سے توبہ نصوح کرنا اس حال میں مر گیا تو جنت جائے گا ۔
عتبان بن مالک کی حدیث ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے اس شخص پر جہنم کو حرام کیا ہے جو صدق دل سے اللہ تعالی کی خوشنودی کیلئے لا اله الا الله پڑھے ۔
توحید کی حقیقت کی فہم اور ادراک بندے کو شرک و بدعات اور گناہوں سے پاک صاف کرتا ہے۔
اسباب کے ساتھ تعلق :
اسباب پر توکل کرنا ان پر ہی تکیہ کرنا ،دنیاوی شہوات اور شبہات کے پیچھے جانا رازق کو چھوڑ کر رزق میں مشغول ہونا خالق کو چھوڑ کر مخلوق میں مصروف ہونا یہ توحید پر تربیت کے منافی کام ہیں،ضروری ہے کہ اسباب کے استعمال کے حدود کا علم ہونا چاہیے ۔
اسباب سے متعلق موقف یہ ہونا چاہئے کہ دل سے اللہ تعالی پر توکل اور جوارح اور اعضا سے اسباب اختیار کرنا ۔
قرآن و سنت سے عقیدے کے اثبات کا طریقہ کار :
عقیدے کی پختگی اور اس کے اثبات کا انحصار اللہ تعالی کی قدرت ،عظمت اور خلق رزق وغیرہ سے متعلق تذکیر پر منحصر ہے ،یہ سب کچھ اللہ تعالی کی مشیت،ارادے اور حکمت کے تابع ہے ۔
اسی کیلئے امر ہے اسی کا حکم چلے گا،اسی کیلئے خلق ہے ،وہی دو جہانوں کا رب ہے ۔
تمام انبیاء اور رسل اپنی اقوام کے ساتھ یہی مکالمہ اور تبلیغ کرتے رہے ،انہیں دلائل اور براھین پیش کرتے رہے معجزات دکھاتے رہے ہلاک ہونے والی امتوں کے قصے سنائے اور ان پر توحید کی حقیقت کو واضح کیا ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تیرہ سالہ مکی دور کے موضوعات بھی توحید پر تھے ،انہیں توحید سمجھاتے رہے،مثالوں کے ذریعے معجزات کے ذریعے توحید کی طرف بلاتے رہے جب کہ شریعت کے باقی احکامات کا نزول بعد میں ہوا یہاں تک نماز بھی ہجرت سے ایک سال پہلے اسراء و معراج کے سفر میں فرض کی گئی ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پہلے وہ سورتیں نازل ہوئی ہیں جن میں جنت جہنم کا تذکرہ تھا ۔
تاکہ لوگ اسلام کی پیروی کرے ،اگر شروع میں انہیں شراب نوشی سے روکا جاتا وہ نہیں رکتے زنا سے روکا جاتا وہ نہیں رکتے،فرماتی ہیں جب سورہ قمر نازل ہوئی میں کھیلتی بچی تھی اور جب سورہ بقرہ اور نساء نازل ہوئی میں رسول اللہ کے عقد میں تھی ۔بخاری

شاركنا بتعليق


ثلاثة × ثلاثة =




بدون تعليقات حتى الآن.