موحّدین اور مشرکین کے قبروں کی زیارت میں فرق — حصہ اول

الأثنين _12 _أكتوبر _2026AH admin
موحّدین اور مشرکین کے قبروں کی زیارت میں فرق — حصہ اول

سلوک اور ایمانیات:
رہے موحّدین کی قبروں کی زیارت، تو اس کے تین مقاصد ہیں:
پہلا مقصد: آخرت کو یاد کرنا، عبرت اور نصیحت حاصل کرنا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ( قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ تمہیں آخرت یاد دلاتی ہیں) .
دوسرا مقصد: میت کے ساتھ حسنِ سلوك کرنا، یعنی اس سے زیادہ عرصے تك تعلق منقطع نہ رکھنا کہ اسے چھوڑ دیا جائے اور بھلا دیا جائے۔ جیسے کوئی زندہ شخص طویل عرصے تك کسی سے ملاقات نہ کرے تو رفتہ رفتہ اسے بھول جاتا ہے، پھر جب اس سے ملاقات کرتا ہے تو وہ اس کی زیارت سے خوش ہوتا اور مسرور ہوتا ہے۔ میت تو اس خوشی کی زیادہ مستحق ہے؛ کیونکہ وہ ایسی دنیا میں پہنچ چکی ہے جہاں اس کے اہل و عیال، بھائی بند ، اور جاننے والے اس سے جدا ہو چکے ہیں۔
لہٰذا جب کوئی شخص اس کی زیارت کرتا ہے ، اور اس کے لیے دعا، صدقہ یا کسی نیکی کا ثواب بطور تحفہ پیش کرتا ہے تو اسے اس سے خوشی اور مسرت حاصل ہوتی ہے، جیسے کوئی زندہ شخص اپنے ملنے والے اور تحفہ دینے والے سے خوش ہوتا ہے۔
اسی لیے نبی کریم ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والے کے لیے یہ مشروع فرمایا کہ وہ اہلِ قبور کے لیے رحمت، مغفرت اور عافیت کی دعا کرے۔ آپ ﷺ نے یہ مشروع نہیں فرمایا کہ وہ اہلِ قبور سے دعا مانگے، نہ یہ کہ ان کے وسیلے سے دعا کرے، اور نہ یہ کہ ان کے پاس نماز پڑھے۔
تیسرا مقصد: زیارت کرنے والے کا اپنے ساتھ حسنِ سلوك کرنا، یعنی سنت کی پیروی کرنا اور ان امور تک محدود رہنا جو رسول اللہ ﷺ نے مشروع فرمائے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے ساتھ بھی حسنِ سلوك کرتا ہے اور جس کی زیارت کی جا رہی ہے، اس کے ساتھ بھی۔
حوالہ : إغاثة اللهفان في مصائد الشيطان، ۱/۳۹۲، ط: عطاءات العلم۔

شاركنا بتعليق


تسعة عشر − ستة عشر =




بدون تعليقات حتى الآن.