ایمان کی بہار، باہمی دشمنی کے لیے نہیں

الأثنين _12 _أكتوبر _2026AH admin
ایمان کی بہار، باہمی دشمنی کے لیے نہیں

مسلمانوں کے درمیان باہمی رنجش اور قطع تعلقی کے مقابلے کے لیے اسلامی نصیحتیں:
الحمدلله ، اللهم صل على رسول الله .
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اے اللہ! اپنے رسول ﷺ پر درود نازل فرما۔
مسلمانوں کے درمیان، خواہ وہ قریبی رشتہ دار ہوں یا دوسرے لوگ، باہمی رنجش، ناراضی، ترکِ تعلق اور قطع تعلقی پیدا ہونا دراصل شیطان کے کاموں میں سے ہے
۔ شیطان انسان کے نفس کو اپنے پیچھے لگاتا ہے، اسے قطع تعلقی پر ابھارتا اور معمولی لغزشوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ پھر وہ دلوں میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے، یہاں تك کہ چھوٹی چھوٹی غلطیاں بڑی بن جاتی ہیں ، اور دشمنی، قطع تعلقی اور باہمی دوری میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ یہ سب شیطان کی چالوں میں سے ہے۔ اگر ہم اس کی نافرمانی کرتے اور اس کے مکر و فریب سے ہوشیار رہتے تو یہ صورت حال پیدا نہ ہوتی۔
میرے بھائی! میں تمہیں چند نصیحتیں کرتا ہوں:
پہلی نصیحت: خود کو اس معاملے میں جج نہ بناؤ کہ تم یہ کہو: (میں غلطی پر نہیں ہوں) اور اپنے آپ کو بری قرار دے دو۔ بلکہ اپنے مسئلے کو کسی ایسے قابلِ اعتماد شخص کے سامنے پیش کرو جس پر تمہیں اعتماد ہو ۔ اس معاملے کو اپنی خواہش اور ذاتی رائے کے ترازو میں نہ تولو، اور نہ کسی جاہل یا قطع تعلقی کرنے والے شخص کی اندھی تقلید کرو؛ بلکہ شریعت کے ترازو کو معیار بناؤ اور اسی سے حکم معلوم کرو۔
دوسری نصیحت : اگر تم پر واضح ہو جائے کہ تمہارا مخالف ہی غلطی پر ہے، تب بھی اپنے بھائی کے حق میں تمہاری طرف سے کچھ کوتاہی باقی رہ سکتی ہے؛ کیونکہ ہر مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی پر یہ حق ہے کہ اس سے تعلق قائم رکھے، محبت اور خیرخواہی کا اظہار کرے اور اسے خوشی پہنچانے کی کوشش کرے۔
تیسری نصیحت: اپنے مخالف کے پاس خود جانے میں پہل کرو، اس کے دل کی رعایت کرو اور اس کی محبت حاصل کرنے کی کوشش کرو، خواہ غلطی اسی کی ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ( تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تك اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے) اور آپ ﷺ نے فرمایا: ( ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے (.
چوتھی نصیحت : شیطان تمہیں چھوڑنے والا نہیں۔ وہ تمہارے دل میں یہ بات ڈالے گا کہ: ) جب تمہارے ساتھی نے تم سے بدسلوکی کی ، اور تمہارے ساتھ غلطی کی ہے، تو تم اسے راضی کرنے کے لیے کیوں جاؤ؟ تمہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں.
اس وسوسے کو فوراً رد کرو ، اور شیطان کے حکم کے برخلاف عمل کرو۔ کیونکہ جو شخص اس کے پاس جاتا ہے جس نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہو، تو یہ اس کی عاجزی، قوت، خود اعتمادی اور اللہ سبحانه وتعالیٰ کی رضا طلب کرنے کی علامت ہے۔ وہ صبر و ثواب کی نیت کے ساتھ اپنے نفس اور شیطان کا مقابلہ کرتا ہے۔
پانچویں نصیحت: اس بات سے بچو کہ تم کہو: جو شخص بے قصور ہو، اسے معذرت نہیں کرنی چاہیے۔، صحیح بات یہ ہے کہ سچا، مخلص اور انصاف پسند انسان اپنے بھائی سے معذرت کر لیتا ہے، اگرچہ وہ خود بے قصور ہی کیوں نہ ہو۔ وہ اس بات پر معذرت کرتا ہے کہ شاید اس کی کسی بات سے اس کے بھائی کو تکلیف پہنچی ہو، پہلی قطع تعلقی پر معذرت کرتا ہے، اور اگر اس سے کسی غیر ارادی طور پر غلطی ہوئی ہو تو اس پر بھی معذرت کرتا ہے۔
چھٹی نصیحت: جب تم اپنے بھائی سے صلح کر لو ، تو دوبارہ اس کے ساتھ قطع تعلقی ، اور ناراضی کا سبب نہ چھیڑو، بلکہ معاف کرو، مسکراؤ اور اس کی غلطی سے درگزر کرو۔ اگر وہ تم سے اس معاملے کے بارے میں گفتگو کرے تو نرمی سے کہو: ( میں نے اپنی سمجھ کے مطابق کوشش کی اور یہ میری رائے تھی۔ اگر مجھ سے غلطی ہوئی ہے تو مجھے معاف کر دو، اور اگر مجھ سے غلطی نہیں ہوئی تو بھی میں نے تمہیں معاف کر دیا۔ جو کچھ پہلے ہو چکا، اللہ اسے معاف فرمائے۔ اللہ سبحانه وتعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ﴾ ترجمه
)انہیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ ﷻ تمہیں معاف فرما دے؟‘). اور تم بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرح کہو: کیوں نہیں! اللہ کی قسم، ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہمیں معاف فرما دے).

شاركنا بتعليق


ثمانية عشر − اثنا عشر =




بدون تعليقات حتى الآن.