إخبات کے درجات

الجمعة _12 _نوفمبر _2021AH admin
إخبات کے درجات

(اخبات عاجزی،انکساری اور شکستہ دلی کو کہا جاتا ہے)
اس کے تین درجات ہیں:
پہلا درجہ: عصمت سے شہوت دب جائے،ارادہ غفلت کا ادراک کرے،جستجو بہکاوے کو لگام دے،(عصمت ) حفظ و حمایت ہے،(شہوت) خواہشات نفس کی طرف میلان ہے اور(استغراق) کسی چیز کو گھیرنا اور اس کا احاطہ کرنا ہے،جب عصمت شہوت کے تمام پہلووں کو ڈھانپ دے تو یہ اخبات کی دلیل ہے اور یہ مقام طمانیت حاصل کرنا ہے اور اس کے اولین منازل پانا ہے،نچوڑ یہ ہے کہ عصمت و حمایت شہوت کو مارتی ہے جب کہ ارادہ غفلت کو مارتا ہے،اور محبت بہکاوے کو ۔
دوسرا درجہ :یہ کہ دل کسی پیش آمدہ چیز سے خوف نہ کھائے،کوئی فتنہ راستہ نہ کاٹے،ان عوارض میں سے سب سے طاقتور اکیلے رہنے کا خوف ہے،پس اس کی طرف توجہ نہ دے،کچھ سچے لوگوں نے کہا ہے کہ سچائی کی جستجو میں تمہارا اکیلے رہنا تمہارے سچے ہونے کی دلیل ہے۔
کسی اور نے کہا: حق کی راہ پر چلتے ہوئے کم ہم راہیوں سے وحشت نہ کر زیادہ ہلاک ہونے والوں سے دھوکہ نہ کھا
راہ کاٹنے والی چیزوں میں سے وہ چیزیں ہیں جو دل پر وارد ہوتی ہیں اور اسے مطالعہ حق سے روکتی ہیں،لیکن جب اخبات کی منزل پر اتریں تو فتنہ کا وہاں گزر نہیں ہوتا ہے ۔
تیسرا درجہ : اس کے نزدیک تعریف اور مذمت برابر ہو وہ ہمیشہ اپنے نفس کو ملامت کرے،یاد رکھیں جب بھی اخبات پر بندے کے قدم جم جائیں اس کی ہمت بلند ہوتی ہے،وہ تعریف و مذمت سے بالا ہوتا ہے لوگوں کی تعریف سے وہ خوش نہیں ہوتا ان کی مذمت سے غمگین نہیں ہوتا اسے پروا نہیں ہوتی ہے،تعریف و تنقید پر رکنا دراصل دل کا کٹنا ہے اور اللہ سے خالی ہونا ہے۔

شاركنا بتعليق


4 × ثلاثة =




بدون تعليقات حتى الآن.