اللہ تعالیٰ کے لیے اخوت

الأربعاء _12 _أكتوبر _2022AH admin
اللہ تعالیٰ کے لیے اخوت

دنیا کے تمام تعلقات آخرت میں عداوت کا باعث بنیں گے سوائے ان تعلقات کے جو صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر تھے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
{اَلْاَخِلَّآءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُـمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ}
[الزخرف :67]
ترجمہ
اس دن دوست بھی آپس میں دشمن ہو جائیں گے مگر پرہیزگار لوگ۔
ابن کثیر رحمہ اللہ اسکی تفسیر میں فرماتے ہیں
ہر وہ دوستی اور ساتھ جو اللہ کے علاوہ ہو قیامت کے دن دشمنی میں بدل جائے گا سوائے اس تعلق کے جو صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر ہو بس وہ باقی رہیگا”
اللہ تعالیٰ اس کی خاطر اخوت اختیار کرنے اور اسکی اطاعت پر محبت کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں :
”ایک شخص اپنے بھائی کی ملاقات کو ایک دوسرے گاؤں کی طرف گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی راہ میں ایک فرشتہ کو کھڑا کر دیا جب وہ وہاں پہنچا تو اس فرشتے نے پوچھا: کہاں جاتا ہے؟ وہ بولا: اس گاؤں میں میرا ایک بھائی ہے میں اس کو دیکھنے کو جاتا ہوں۔ فرشتے نے کہا: اس کا تیرے اوپر کوئی احسان ہے جس کو سنبھالنے کے لیے تو اس کے پاس جاتا ہے؟ وہ بولا: نہیں کوئی احسان اس کا مجھ پر نہیں ہے صرف اللہ کے لیے میں اس کو چاہتا ہوں۔ فرشتہ بولا: تو میں اللہ تعالیٰ کا ایلچی ہوں اور اللہ تجھ کو چاہتا ہے جیسے تو اس کی راہ میں اپنے بھائی کو چاہتا ہے۔“
(صحیح مسلم)
اللہ تعالیٰ کی خاطر جو محبت ہوتی ہے وہ دھوکہ دہی، مکر و فریب،خیانت، تذلیل اور دنیاوی آلائشوں اور مصلحتوں سے پاک ہوتی ہے اور یہ باقی رہنے والی محبت ہوتی ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات باقی رہنے والی ہے.
اللہ تعالیٰ کی خاطر اخوت ایسی بندگی ہے جس میں آسودگی، انسیت اور لذت ہوتی ہے، یہ ایمان میں اضافہ نصیحت، راز کی حفاظت اور اپنے بھائی کے لیے نفع رسانی ہوتی ہے جب کہ اسے نقصان پہنچانے سے دوری، یہ اخوت زبان و بیان کی سچائی سے جھلکتی ہے، یہ حسد مکر اور تنگی سے دور ہوتی ہے، اسکی نشانی وفا امانت اور ہدیہ ہے.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
“تحفہ دو محبت بڑھاؤ”
(صحیح بخاری، الأدب المفرد)
کمال ایمان اسی کے ساتھ مقید ہے، رسول اللہ نے فرمایا
“اس زات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک تم ایمان نہ لاؤ تم اس وقت تک ایمان نہیں لا سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جسے کرنے سے تمہارے درمیان محبت بڑھ جائے گی، آپس میں سلام کو عام کرو ”
(صحیح مسلم)
حقیقت میں یہ ایک جسم کی طرح ہوتے ہیں بس دل الگ ہوتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
” مومنین ایک بندے کی طرح ہیں”(صحیح مسلم)
فرمایا
”مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت و مودت اور باہمی ہمدردی کی مثال جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے بایں طور کہ نیند اڑ جاتی ہے اور پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے“۔متفق علیہ
جب مومنین بھائی بھائی ہیں تو پھر انہیں دلوں کو ملانے والی چیزوں کا حکم دیا گیا اور ان چیزوں سے روکا گیا جو اختلاف اور دلوں کی دوری کا سبب بنیں.
خطوات ألى السعادة (ص:47

شاركنا بتعليق


4 × اثنان =




بدون تعليقات حتى الآن.