دل کی صفائی اور پاکیزگی

الأحد _7 _يوليو _2024AH admin
دل کی صفائی اور پاکیزگی

اگرچہ یہ باب پہلے والے بیان میں داخل ہے جیسے ہم نے کہا کہ پاکی کا حصول طہارت کے بغیر ناممکن ہے –
پھر ہم نے طہارت کے معنی کو الگ سے قرآن و سنت کی روشنی میں خصوصی طور بیان کرنا ضروری سمجھا اس لئے کہ اسکی ضرورت تھی-
اللہ تعالی فرماتے ہیں:
{يَآ اَيُّـهَا الْمُدَّثِّرُ( ١)قُمْ فَاَنْذِرْ(۲)وَرَبَّكَ فَكَـبِّـرْ (۳)وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (۴)
[المدثر :٤-١]
ترجمہ
اے کپڑے میں لپٹنے والے۔اٹھو پھر (کافروں کو) ڈراؤ۔اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرو۔اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔
ایک اور جگہ فرمایا :
{أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللَّهُ أَن يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ}
[المائدة:41]
ترجمہ
یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہیں چاہا ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے-
سلف اور بعد کے جمہور مفسرین کے نزدیک یہاں کپڑوں سے مراد دل ہے اور طہارت سے مراد اخلاق اور اعمال کی اصلاح ہے –
واحدی نے فرمایا :
مفسرین کا اس بات پر اختلاف ہے چنانچہ عطاء سے روایت کی گئی وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں ۔
مطلب گناہوں اور جاہلیت کے دور کی رائج چیزوں سے پاک کرنا –
یہی قتادہ اور مجاہد کا قول ہے کہ “اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کر “

حوالہ :
إغاثة اللهفان في مصايد الشيطان ط عطاءات العلم 1/86

شاركنا بتعليق


اثنان × اثنان =




بدون تعليقات حتى الآن.