زندہ و جاوید نماز

الخميس _25 _نوفمبر _2021AH admin
زندہ و جاوید نماز

الحمد لله اللهم صل و سلم على رسول الله:
یہاں تک کہ نماز ہمارے دلوں میں زندہ ہو،ہم سب نماز کی اہمیت جانتے ہیں ہم جانتے ہیں کہ نماز دین کا ستون ہے،قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے متعلق سوال ہوگا،ہم جانتے ہیں کہ نماز صحیح نکلی تو سارے اعمال صحیح نکلیں گے اگر نماز میں خرابی ہوئی تو دیگر اعمال بھی خراب نکلیں گے،ہم سب جانتے ہیں کہ جب نماز دین کا ستون ہے تو پھر روزہ ،حج، زکواة ،نیکی اور احسان کا بھی ستون ہے،دین کے ہر معاملے کا ستون ہے،اس کے متعلق روز قیامت سب سے پہلے سوال ہونا ہے،یہ پانچ نمازیں ہیں لیکن اجر پچاس نمازوں کا ملے گا،اللہ تعالی نے اعضاء سجدہ کو آگ پر حرام کر دیا ہے،ہم یہ بھی جانتے ہیں اور اس کے علاوہ بھی لیکن اہم سوال یہ ہے کہ نماز ہمارے دلوں میں کیسے زندہ ہوگی؟ ہم کب نماز میں اپنی نجات پائیں گے؟ ہم کب رب تعالی کے حضور کھڑے ہو کر نماز میں اپنے دکھوں اور غموں کا علاج پائیں گے؟ نماز کب ہمارے دلوں کی صفائی،گناہوں کی معافی،رزق میں فراوانی اور دلوں کی کشادگی کا ذریعہ بنے گی؟
یہ اسباب کے ذریعے ہوگا،ہم یہاں کچھ اسباب ذکر کریں گے۔
پہلا سبب: نمازی شعوری طور پر اپنے آپ کو نماز کا محتاج بنائے کہ اسے نماز کی ضرورت ہے چونکہ وہی شخص علاج کروا سکتا ہے جسے شعور اور ادراک ہو ،دوسرا سبب:صدق دل سے اللہ تعالی سے نماز کی توفیق مانگے کہ اللہ تعالی نماز کے قیام میں آپ کی مدد فرمائے،اللہ تعالی کو جب آپ میں سچائی نظر آئے گی تو وہ آپ کی مدد کریگا سچائی کا ثبوت یہ ہے کہ اللہ تعالی کی ناپسندیدہ چیزیں ترک کرنا اور پسندیدہ چیزیں اپنانا،تیسرا سبب: نماز میں حاضر دلی کیلئے کوشش کرنا اور یہ ذہن میں رکھنا کہ وہ اللہ تعالی کے حضور کھڑا ہے،چونکہ نماز عقل والوں پر ہی فرض کردی گئی ہے،چوتھا سبب: آذان ہوتے ہی جلدی مسجد پہنچنا اور بابرکت وقت مسجد میں نماز کے انتظار میں گزارنا یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ فرشتے اس نمازی کیلئے چار دعائیں کرتے ہیں اللہ اسے بخش دے،اللہ اس پر رحم فرما، اللہ اس پر رحمت کی برکھا برسا،اللہ اسکی توبہ قبول فرما،پانچواں سبب:جب کہیں نماز رہ جائے تو اس کوتاہی پر اللہ تعالی کے سامنے گڑگڑا کر توبہ کرنا اور نفل نمازیں زیادہ سے زیادہ پڑھنا۔ چھٹا سبب: نفل نمازوں کی کثرت ہو چونکہ روز قیامت اگر فرض نمازوں میں کمی کوتاہی ہوئی تو نفل نمازوں سے پوری کی جائے گی،لہذا نوافل میں کثرت یہاں تک کہ اللہ تعالی تجھ سے محبت کرے آدمی زیادہ سے زیادہ نوافل پڑھتے رہتا ہے یہاں کہ اللہ تعالی اس سے محبت کرتا ہے۔ساتواں سبب:نماز سے پہلے اپنی نیت درست کرلیں کہ آپ صرف فرض نماز کا بوجھ اتارنا نہیں چاہتے ہیں بلکہ اس نماز کے ذریعے آپ کو ان خزانوں کی جستجو ہے جس کا اللہ تعالی نے وعدہ فرمایا ،اس نماز کے ذریعے آپ دل کی تازگی اور زندگی چاہتے ہیں،صبر و شکیبائی اور نیکی چاہتے ہیں،مشکلات کا حل اور ضرورتوں کو پورا ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں،نماز کے ذریعے دنیا و آخرت کے تمام کاموں میں مدد چاہتے ہیں۔آٹھواں اور آخری سبب:نماز سے متعلق وعدہ اور وعید والے نصوص کا علم ہو وعدہ کہ یہ پانچ نمازیں اور اجر پچاس کا،یہ کہ نماز بندہ مومن کیلئے دنیا اور آخرت دونوں میں نور ہے،یہ کہ کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو نماز میں خشوع و خضوع اپناتے ہیں،وعید سے متعلق فرمایا:
(پھر ان کی جگہ ایسے ناخلف آئے جنہو ں نے نماز ضائع کی اور خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، پھر عنقریب گمراہی کی سزا پائیں گے۔)
قبر میں عذاب والی حدیث میں آیا کہ کچھ لوگوں کے سروں کو پتھر سے کچلا جا رہا تھا پوچھا گیا یہ کون ہیں تو بتایا گیا کہ یہ لوگ دنیا میں نماز نہ پڑھ کر سوئے رہتے تھے ان کے سر اللہ کے حضور نہیں جھکتے تھے۔اللہ ہمیں ایسی نماز نصیب فرما جس سے آپ ہم سے راضی ہوجائے،الہی ایسی نماز کہ جس سے ہمارے غم و الم دور ہوں،ایسی نماز جو تیرا قرب نصیب کرے،ایسی نماز کہ جس سے ہمارے رزق میں کشادگی،نیتوں کی درستگی ہمارے گھروں اور اولاد کی اصلاح ہو ۔آمین

شاركنا بتعليق


19 − واحد =




بدون تعليقات حتى الآن.