سلف، قرآن اور رمضان

الجمعة _24 _مارس _2023AH admin
سلف، قرآن اور رمضان

سلف کا معمول رمضان کریم میں قرآن کو لیکر ایسا ہوتا تھا جیسا بلندیوں کی طرف چڑھنے کیلئے متحرک شخص کا، امام بخاری رحمہ اللہ کا معمول یہ ہوتا تھا جب رمضان کی پہلی رات ہوتی تھی دوستوں کو جمع کرتے تھے ان کو نماز پڑھاتے تھے اور ہر رکعت میں بیس آیتیں پڑھتے تھے، یہاں تک کہ ختم قرآن تک اسی طرح سحری میں قرآن کا نصف یا تیسرا حصہ پڑھتے ہر رات افطاری کے وقت ختم کرتے اور ہر ختم ہر دعا کرتے.
[صفة الصفوة 4/170]
امام شافعی کے متعلق آتا ہے کہ وہ نمازوں کے علاوہ رمضان میں ساٹھ بار قرآن مجید ختم کرتے تھے، ربیع کہتے ہیں
امام شافعی ہر ماہ تیس بار قرآن ختم کرتے تھے لیکن رمضان المبارک میں نمازوں کے علاوہ ساٹھ بار ختم کرتے تھے.
[صفة الصفوة :2/255]
ہم میں سے کسی کے ذہن میں یہ شبہ آ سکتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تین دن سے کم وقت میں قرآن مجید ختم کرنے سے منع فرمایا ہے؟
کیسے یہ علماء اسکی مخالفت کرتے ہیں؟
ابن رجب فرماتے ہیں
منع کا تعلق ہمیشگی کے ساتھ ہے نہ کہ مخصوص اور فضیلتوں کے اوقات میں، جب کہ رمضان، شب قدر یا پھر مکہ مکرمہ میں باہر سے آنے والے کیلئے زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیے تاکہ زمان اور مکان کی فضیلتیں بھی سمیٹیں اور موقعے سے فائدہ اٹھائیں.
یہی امام احمد، امام اسحاق وغیرہ کا قول ہے.
اسی پر دیگر کا عمل بھی ہے، یعنی سلف میں سے جو رمضان المبارک میں خصوصاً آخری عشرے میں تین راتوں میں قرآن ختم کرتے تھے.

شاركنا بتعليق


5 + 16 =




بدون تعليقات حتى الآن.