ہم اپنی اولاد پر کیسے موثر ہوں

الثلاثاء _25 _يناير _2022AH admin
ہم اپنی اولاد پر کیسے موثر ہوں

اولاد پر والدین کی تاثیر ایک اہم امر ہے،والدین کے دل اپنے بچوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں،والدین کی تاثیر سے بچوں میں صحیح اور غلط کی تمیز،راہنمائی،توفیق،حسن تربیت اور ان کے قول و فعل میں توازن آ جاتا ہے،والدین چاہتے ہیں کہ بچے ان سے متاثر ہوں جب وہ کسی کام کا کہیں بچے مان جائیں جب کسی کام سے روک لیں تو رک جائیں،والدین کی بچوں میں تاثیر ان بچوں سے والدین کی قربت،نرمی،پیار اور ان کو اہمیت و ٹائم دینے پر منحصر ہے،بچوں کی عمروں کا خیال رکھنا،ان کی ذہنی صلاحیتوں میں تفاوت کا لحاظ رکھنا،تاثیر سے متعلق راہنمائی آل عمران میں اللہ تعالی نے یوں بیان کی ہے۔
{فَبِمَا رَحْـمَةٍ مِّنَ اللّـٰهِ لِنْتَ لَـهُـمْ ۖ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْـهُـمْ وَاسْتَغْفِرْ لَـهُـمْ وَشَاوِرْهُـمْ فِى الْاَمْرِ ۖ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّـٰهِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ}
[آل عمران:159]
ترجمہ
پھر اللہ کی رحمت کے سبب سے تو ان کے لیے نرم ہو گیا، اور اگر تو تند خو اور سخت دل ہوتا تو البتہ تیرے گرد سے بھاگ جاتے، پس انہیں معاف کردے اور ان کے واسطے بخشش مانگ اور کام میں ان سے مشورہ لیا کر، پھر جب تو اس کام کا ارادہ کر چکا تو اللہ پر بھروسہ کر، بے شک اللہ توکل کرنے والے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔
اللہ تعالی نے آپ پر رحم کیا،آپ کے دل میں اپنے ساتھیوں کیلئے نرمی رکھی،”لین ” نرمی کو کہتے ہیں اور غلطیوں کی درست اصلاح کو کہتے ہیں،اگر آپ سخت دل ہوتے تو آپ پیغمبر ہونے کے باوجود وہ لوگ آپ سے دور چلے جاتے،بچوں میں تاثیر کا دوسرا نسخہ دعا ہے جب بچہ والدین کو رب کے حضور دعا کرتے،بخشش مانگتے اور اس کی طرف رجوع کرتے دیکھے گا تب بچہ بھی یہی کچھ کریگا،تیسرا نسخہ بچوں کو معاف کرنا ہے،غلطی بشر کے ساتھ لازم ملزوم ہے اولاد مختلف طبیعتوں اور مزاجوں کے ہوتے ہیں ان کی چھوٹی غلطیوں میں ان کو ڈانٹنے کی بجائے پیار سے سمجھائیں اور معاف کریں،چوتھا نسخہ بچوں کے ساتھ مکالمہ،حوار اور تبادلہ خیال کرنا ہے،اس سے بچوں میں اعتماد آ جاتا ہے حوار میں یہ لازم نہیں کہ کسی کی بات کو حرف آخر مانا جائے،حوار اور مکالمہ سب سے موثر چیز ہے،ضروری نہیں کہ ہر حوار اور ڈائیلاگ نتیجہ خیز ہو،پانچواں نسخہ اللہ تعالی پر توکل دیگر تمام نسخوں میں یہ احتمال ہوتا ہے کہ کامیاب ہوں نہ ہوں چونکہ یہ ظاہری اسباب ہوتے ہیں لیکن توکل کی بات ہی الگ ہے،اس لئے کہ سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے توکل نصف دین ہے،اہل ایمان ظاہری اسباب اپنانے کے بعد اللہ پر توکل کرتے ہیں ۔
اگر تم مومن ہو تو پھر اللہ تعالی پر بھروسہ اور توکل کرو ۔

شاركنا بتعليق


ثلاثة + ستة =




بدون تعليقات حتى الآن.