– امیر کا علماء اور نیک لوگوں سے مدد لینا – واقعات اور نصیحتیں
السبت _6 _يونيو _2026AH admin
ابن سعد رحمہ اللہ تعالى ، محمد بن عمر سے، وہ ابن ابی الزناد سے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: ( جب امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالى مدینہ میں والی بن کر آئے تو انہوں نے ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد دس بڑے علماء کو بلایا، جن میں عروہ، عبید اللہ، سلیمان بن یسار، قاسم، سالم، خارجہ، ابو بکر بن عبدالرحمن، ابو بکر بن سلیمان بن ابی حثمہ، اور عبداللہ بن عامر بن ربیعہ شامل تھے۔ پھر انہوں نے اللہ سبحانه وتعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا:
“میں نے آپ سب کو ایک ایسے کام کے لیے بلایا ہے جس میں آپ کو اجر ملے گا اور ہم سب حق کے کام میں ایک دوسرے کے مددگار بنیں گے۔ میں کوئی بھی معاملہ آپ کی رائے یا آپ میں سے موجود کسی شخص کی رائے کے بغیر طے نہیں کروں گا۔ اگر آپ میں سے کوئی شخص کسی ظلم یا زیادتی کو دیکھے، یا کسی عامل (ذمہ دار) کی طرف سے کوئی زیادتی آپ تک پہنچے تو میں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ وہ بات مجھے ضرور پہنچائی جائے۔ یہ سن کر تمام علماء نے انہیں دعا دی اور پھر وہ لوگ جدا ہو گئے۔
حواله (سیر أعلام النبلاء: 5/118).






شاركنا بتعليق
بدون تعليقات حتى الآن.