حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالى کے عدل اور امانت کا ایک ایمان افروز واقعہ

الثلاثاء _21 _يوليو _2026AH admin
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالى کے عدل اور امانت کا ایک ایمان افروز واقعہ

سبق آموز واقعات:
امام لیث رحمہ اللہ تعالى بیان کرتے ہیں: جب حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالى خلیفہ بنے تو سب سے پہلے اپنے ہی خاندان سے احتساب کا آغاز کیا۔ انہوں نے بنو امیہ کے افراد کے قبضے میں موجود وہ اموال واپس لے لیے جو ناجائز طریقے سے حاصل کیے گئے تھے، اور انہیں مظالم (ناحق حاصل کیا گیا مال) قرار دیا۔
اس پر بنو امیہ پریشان ہوگئے اور انہوں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی پھوپھی فاطمہ بنت مروان سے سفارش کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالى کو پیغام بھیجا کہ مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے۔
اس کے بعد وہ رات کے وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالى کے پاس آئیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالى نے انہیں ان کی سواری سے اتارا، عزت و احترام کے ساتھ بٹھایا، پھر فرمایا:
(پھوپھی جان! آپ بات کرنے کی زیادہ حق دار ہیں۔ انہوں نے کہا: (اے امیر المؤمنین! پہلے آپ ہی کچھ فرمائیے)
اس پر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالى نے فرمایا: (اللہ سبحانه وتعالیٰ نے نبي كريم محمد ﷺ کو رحمت بنا کر بھیجا، عذاب بنا کر نہیں بھیجا۔ پھر اللہ سبحانه وتعالیٰ نے آپ ﷺ کو اپنے پاس بلا لیا، لیکن آپ ﷺ امت کے لیے ایک ایسا دریا چھوڑ گئے جس سے سب لوگ برابر فائدہ اٹھاتے تھے۔ پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اس دریا کو اسی حالت میں باقی رکھا۔اس کے بعد أمير المؤمنين عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے بھی اپنے پیش رو کے طریقے پر عمل کیا۔ لیکن اس کے بعد رفتہ رفتہ اس دریا سے نہریں نکالی جاتی رہیں، یہاں تك کہ یزید، مروان، عبدالملك، ولید اور سلیمان کے ادوار میں اس میں مسلسل کمی آتی گئی۔ اب جب حکومت میرے پاس آئی ہے تو اصل بڑا دریا تقریباً خشك ہو چکا ہے، اور اس کے کنارے رہنے والے اس وقت تک سیراب نہیں ہو سکتے ، جب تک میں اسے دوبارہ اس کی پہلی حالت پر نہ لے آؤں۔” یہ سن کر فاطمہ بنت مروان نے کہا: (بس! آپ کی یہ بات میرے لیے کافی ہے، اب میں اس معاملے میں آپ سے مزید کوئی بات نہیں کروں گی) . حوالہ: سیر أعلام النبلاء، امام ذہبی رحمہ اللہ، جلد 5، صفحہ 129۔

شاركنا بتعليق


ثلاثة عشر − أربعة =




بدون تعليقات حتى الآن.