حکمتِ ابتلاء : تمام تعریفیں اللہ ربّ العالمین کے لیے ہیں، اسی سے ہم مدد مانگتے ہیں۔ اے اللہ! ہمارے نبی محمد ﷺ، آپ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر درود و سلام نازل فرما
الأحد _15 _فبراير _2026AH admin
محترم بہنو! آج کے درس حکمتِ ابتلاء : میں آپ سب کو خوش آمدید۔ ہم اللہ عزوجل سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اور آپ سب کو ، وہ علم سکھائے جو ہمیں نفع دے، اور جو ہمیں سکھائے اس سے ہمیں فائدہ پہنچائے۔
حکمتِ ابتلاء: اللہ عزوجل فرماتا ہے:﴿وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً﴾
اور ہم تمہاری آزمائش کرتے ہیں برائی اور بھلائی کے ذریعے، تاکہ تمہیں آزما کر دیکھیں
﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُقَالَ آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ * وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ﴾
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یہ کہا جائے گا کہ ہم ایمان لائے اور وہ لوگ آزما نہ جائیں گے؟ حالانکہ ہم نے ان لوگوں کو بھی آزمایا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں.
﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تُتْرَكُوا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوا مِن دُونِ اللَّهِ وَلَا رَسُولِهِ وَلَا الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً﴾. یا کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تمہیں چھوڑ دیا جائے گا، حالانکہ اللہ یہ نہیں جان چکا کہ تم میں سے کون لوگ جہاد کرتے ہیں اور کون لوگ اللہ، اس کے رسول، اور مومنین کے سوا کسی کو اپنا سرپرست نہیں بناتے؟
اور اس کے علاوہ بہت سی آیات ہیں ، جو اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ اللہ عزوجل نے اس دنیا میں اپنے بندوں کے لیے آزمائش لکھ دی ہے۔ وہ انہیں آزماتا اور پرکھتا ہے تاکہ ناپاک کو پاک سے، نافرمان کو فرمانبردار سے، سچے کو جھوٹے سے، مومن کو منافق سے اور نیک کو بدکار سے الگ کر دے۔
ابتلاء کا مطلب یہ ہے: کہ بندوں کو خوشحالی اور تنگی، دونوں حالتوں میں آزمایا جائے۔ ان اہم باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ دنیا اور آخرت میں فرق ہے۔ دنیا میں ہر انسان آزمائش میں ہے، جبکہ آخرت حساب اور بدلے کی جگہ ہے۔
اللہ ﷻ نے اپنی حکمت سے اس دنیا کو فنا اور کمی کی جگہ بنایا ہے۔ اس میں زندگی اور موت ہے، تنگی اور خوشی ہے، اجتماع اور جدائی ہے، دوستی اور دشمنی ہے، اس میں مسلمان اور کافر ہیں، نیک اور بدکار ہیں، مومن اور منافق ہیں، اور اس میں خیر بھی ہے اور شر بھی۔ یہ دنیا ناپاک اور پاک کے ساتھ ملی ہوئی ہے، مسلمان اور کافر آپس میں ملے ہوئے ہیں، خیر اور شر آپس میں گڈمڈ ہیں، اور ایک دوسرے سے آمیختہ ہیں۔ ہم اللہ کی حکمت کو ابتلاء کے ذریعے کیوں سمجھنا چاہتے ہیں؟ تاکہ مسلمان اپنی آزمائش پر اجر حاصل کرے، راضی رہے، صبر کرے اور دل سے مطمئن ہو جائے۔ یہ کیفیت کافر کے برعکس ہے، کیونکہ کافر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا، اور اگر وہ صبر بھی کرے تو اس کا صبر مجبوری کا صبر ہوتا ہے، بالکل جانوروں کے صبر کی طرح۔
اور مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ ہے:
مصیبتوں کے وقت لوگ چار قسموں میں ہوتے ہیں: شکر کرنے والے:
راضی رہنے والے: صبر کرنے والے: جزع و فزع کرنے والے:
اور ان سب میں سب سے اعلیٰ درجہ شکر کا ہے۔ شکر کا مطلب یہ ہے کہ انسان پر جب مصیبت آئے ، تو وہ اس پر خوش ہوتا ہے ، اس ثواب کو جانتے ہوئے جو اللہ اس کے بدلے عطا فرماتا ہے، اور یہ اس کے کامل ایمان اور بلند درجے کی علامت ہے۔
اس کے بعد رضا کا درجہ ہے: یعنی بندہ راضی رہتا ہے، اللہ کے فیصلے کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے، مطمئن رہتا ہے، نہ غمگین ہوتا ہے اور نہ گھبراہٹ کا شکار، بلکہ دل کا سکون رکھتا ہے۔
اس کے بعد صبر کا درجہ ہے: صابر مصیبت کے وقت درد کو دل میں برداشت کرتا ہے، تکلیف محسوس کرتا ہے، یہ تمنا بھی کرتا ہے کہ کاش یہ مصیبت نہ آئی ہوتی، لیکن اس سے کوئی ایسا قول یا فعل صادر نہیں ہوتا جو اس کے جزع و فزع پر دلالت کرے۔ وہ نہ گریبان چاک کرتا ہے، نہ بال نوچتا ہے، جیسا کہ جاہلیت کے زمانے میں کیا جاتا تھا۔
اور رہا جزع (گھبراہٹ اور بے صبری)، تو یہ حرام ہے۔ جزع کرنے والا نہ راضی ہوتا ہے اور نہ صبر کرتا ہے، اور کبھی کبھی اس پر جزع اس قدر غالب آ جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور تقدیر پر اعتراض کرنے لگتا ہے۔ اور ایسا اعتراض انسان کو دین کے دائرے سے بھی نکال سکتا ہے، اگر وہ قضاء و قدر پر ناراضی ظاہر کرے۔ ا چهـا ، ہمارے پاس سب سے بلند منزل شکر کی ہے، اور یہ ان اشعار میں بیان کی گئی ہے:
اگر اللہ کی نعمت پر شکر کرنا خود ایک نعمت ہے، تو مجھ پر لازم ہے کہ اس نعمت پر بھی شکر ادا کروں = میں زمانے بھر میں اس کے حق کا شکر کیسے ادا کروں، چاہے دن لمبے ہو جائیں اور عمر دراز ہو جائے=
اگر خوشی آئے تو اس کی خوشی عام ہو جاتی ہے، اور اگر مصیبت آئے تو اس کے بعد اجر آتا ہے =
اور ان دونوں میں اللہ کی ایک ایسی نعمت ہے ، جو خشکی اور سمندر، عقل اور وہم سب سے وسیع ہے.
اور بعض اہلِ علم کہتے ہیں: جو اللہ کو محبوب ہو، وہی مجھے بھی محبوب ہے”
یعنی جو تقدیر اللہ عزوجل نے میرے لیے لکھی ہے، وہی مجھے محبوب ہے، کیونکہ اللہ نے اسے میرے لیے پسند فرمایا ہے۔ اسی لیے وہ مصیبت پر بھی خوش ہوتا ہے، اور یہ شکر کرنے والوں کے بلند مقامات میں سے ہے۔
صابر، راضی اور شاکر بندہ مصیبت پر بھی اللہ کی حمد کرتا ہے، چار اسباب کی بنا پر: وہ بندہ اللہ ﷻ کی حمد کرتا ہے اس لیے کہ جو مصیبت اسے پہنچی ہے وہ اس سے کم ہے جس سے اللہ نے اسے بچا لیا، کیونکہ کوئی بھی مصیبت ایسی نہیں ہوتی جس سے بڑھ کر کوئی اور سخت مصیبت ممکن نہ ہو۔
اور وہ اللہ کی حمد کرتا ہے اس بات پر کہ اسے رضا اور شکر کی توفیق ملی، کیونکہ وہ اجر کا امیدوار ہے۔ اور وہ اس پر بھی اللہ کی حمد کرتا ہے کہ وہ جزع و فزع میں مبتلا نہیں ہوا، اس لیے وہ گناہ گار نہیں ہوا۔ اور وہ اس بات پر بھی اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس کی مصیبت دین میں نہیں بلکہ دنیا میں ہوئی، کیونکہ سب سے بڑی مصیبت دین میں مصیبت ہے، یعنی انسان کا اپنا دین کھو دینا یا اس کا کمزور ہو جانا۔
اچها- اب ہمارے پاس حکمتِ ابتلاء کا سوال ہے: ابتلاء کی حکمت کیا ہے؟ اللہ اپنے بندوں کو کیوں آزماتا ہے؟ اس لیے کہ وہ انہیں اس دنیا میں، جو آزمائش کی جگہ ہے، پرکھے۔ تو کیا بندہ اللہ کے فیصلے کے آگے سرِ تسلیم خم کرتا ہے؟
اور یہ تسلیم و رضا اس وقت بھی ضروری ہے، چاہے انسان کو حکمت معلوم ہو یا نہ ہو۔ مثلاً کوئی کہے: مجھے اس ابتلاء کی حکمت معلوم نہیں، بیماری آ گئی، کوئی الہام یا پریشانی آ گئی، یا مجھ پر ظلم ہوا، مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کیوں؟
کہا گیا: اگر تم نے حکمت جان لی ہے تو اسی معرفت کو لازم پکڑو، اور اگر تم جانتے ہو تو خاموش رہو اور تسلیم کرو۔
اور یہ جان لو کہ اللہ ہی مدبر ہے، وہی سارے امور کی تدبیر کرتا ہے۔
اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دو، بصیرت حاصل کرو، کیونکہ علم انسان کو رضا، تسلیم اور اللہ کی قضا و قدر پر اعتماد تک لے جاتا ہے۔ اور اگر تم حکمت نہیں جانتے، تو ایسی بات نہ کہو جو تمہیں نقصان دے۔ خاموش رہو، تسلیم کرو، اور اپنے رب کے قریب ہو جاؤ، اس کی اطاعت کی کثرت کے ذریعے۔
کیونکہ دل کے سکون اور مصیبت کے ہٹنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان علم اور سمجھ کے ساتھ اپنے معاملے کو اللہ کے حوالے کرے، خاص طور پر ان باتوں میں جو اس پر مشتبہ ہوں۔ بعض اوقات انسان وسوسوں میں مبتلا ہو جاتا ہے،
یا وہم اور خوف میں گرفتار ہو جاتا ہے، یا اس پر ظلم ہوتا ہے، یا وہ قضا و قدر جیسے مسائل میں الجھ جاتا ہے۔ تو اس کے لیے لازم نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ان امور میں ڈال دے جن کی حکمت وہ نہیں جانتا، اور جن سے نکلنے کا راستہ بھی اسے معلوم نہیں۔ بلکہ وہ اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دے، کیونکہ یہ بندہ اللہ کا مخلوق ہے، وہی اس کا رازق ہے، اللہ ہی اس کا رب اور اس کا کارساز ہے، اور اسی نے اس پر یہ تقدیر لکھی ہے۔ پس وہ پوچھے ،کیونکہ لاعلمی/جھجک کی شفا سوال کرنا ہے، لیکن اگر اسے پوچھنے والا نہ ملے،یا جواب نہ ملے،یا دل مطمئن نہ ہو،
تو اس پر لازم ہے کہ تسلیم کرے اور راضی رہے۔ جیسے علقمہ رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ﴾ کہ یہ وہ شخص ہے جسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے، تو وہ راضی ہو جاتا ہے اور تسلیم کر لیتا ہے۔ اور فرمایا:﴿وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ﴾ یعنی وہ آدمی جسے مصیبت پہنچتی ہے، تو وہ جان لیتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، پس وہ راضی ہوتا ہے اور تسلیم کر لیتا ہے۔ بس یہی کافی ہے ، پس وہ راضی ہو جائے اور تسلیم کرے، ، :بڑے معاملے میں بھی، چھوٹے معاملے میں بھی، جس کی حکمت معلوم ہو اس میں بھی، اور جس کی حکمت معلوم نہ ہو اس میں بھی.
اچها ۔ پس حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے، کیونکہ اللہ ہی حکیم، علیم، خبیر اور قدیر ہے، جلّ وعلا۔
وہ ہر چیز کو—چاہے وہ شرعی امور ہوں یا کونی (تکوینی) امور—چھوٹی ہو یا بڑی—اپنی کامل حکمت سے مقدر فرماتا ہے۔ ہر تقدیر کے پیچھے ایک عظیم حکمت ہوتی ہے؛ کبھی ہم اسے جان لیتے ہیں اور کبھی اس سے لاعلم رہتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے بندوں پر ایک حکمت سے یہ ہے: اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو ہمیشہ کی سلامتی، دائمی عافیت، مستقل خوشی، آسودہ زندگی، دائمی صحت اور کامل استحکام کی جگہ نہیں بنایا ۔ نہیں! یہ دنیا اس کے لیے نہیں ہے۔ اسی طرح اللہ عزوجل نے اس دنیا میں کسی کو بھی گناہوں سے معصوم نہیں بنایا، سوائے انبیاء اور فرشتوں کے؛ کیونکہ ہر ابنِ آدم خطاکار ہے۔ یہ دنیا بھی ناقص ہے اور اس کے رہنے والے بھی ناقص ہیں۔ لا إله إلا الله – اس دنیا میں بندوں کو خطا، نسیان، جہالت اور کوتاہی لاحق ہوتی ہے۔ انہیں نفسیاتی، سماجی اور جسمانی بیماریوں کا سامنا ہوتا ہے—کچھ حقیقی اور کچھ وہمی۔ ان کی نفسیں انہیں برائی کا حکم دیتی ہیں، اور شیطان ان کی گھات میں لگا رہتا ہے؛ وہ ان نفسوں پر حملہ کرتا ہے، انہیں بہکاتا ہے، لالچ دیتا ہے اور جھوٹی امیدیں دلاتا ہے۔
اچها – اب یہاں ہم آٹھ اصولوں کا ذکر کرتے ہیں جو امام ابنِ قیم رحمہ اللہ تعالى نے اپنی کتاب التفسیر القیم میں مصائب کے باب میں بیان کیے ہیں۔ ہم انہیں اختصار کے ساتھ ذکر کرتے ہیں: سب سے پہلے، یہ مفید قواعد/اصول ہیں:
پہلا اصول: مومنوں کو جو مصیبتیں پہنچتی ہیں، وہ ان شرور، آزمائشوں اور اذیتوں سے کم ہوتی ہیں جو کافروں کو پہنچتی ہیں۔
دوسرا اصول: نیک لوگوں (ابرار) کو جو آزمائشیں پہنچتی ہیں، وہ فاجروں، فساقوں اور ظالموں کو پہنچنے والی آزمائشوں سے کم ہوتی ہیں۔
کیونکہ مومنوں پر آنے والی مصیبتیں رضا اور احتساب کے ساتھ ہوتی ہیں،
اور اگر رضا نصیب نہ ہو تو ان کا سہارا صبر اور احتساب ہوتا ہے۔
اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ ۖ إِن تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ ۖ وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ﴾ – اور دشمنوں کا پیچھا کرنے میں کمزور نہ پڑو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری ہی طرح تکلیف اٹھاتے ہیں، مگر تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔”
تیسرا اصول: مومن پر آنے والی مصیبت اس کے ایمان اور اخلاص کے بقدر ہلکی کر دی جاتی ہے۔ جتنا ایمان بڑھتا ہے، اتنا ہی ابتلاء مومن پر آسان ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا﴾ اور فرمایا: ﴿إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ﴾.
چوتھا اصول: جس قدر اللہ کی محبت بندے کے دل میں مضبوط اور راسخ ہو جاتی ہے، اسی قدر مصیبت اس کے نزدیک آسان اور ہلکی ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ اللہ سے محبت کرنے والا بندہ جانتا ہے کہ یہ سب اللہ جل جلالہ کی تقدیر سے ہے۔
پانچواں اصول: کافر، فاجر اور منافق پر جو بظاہر عزت، غلبہ، جاہ و منصب اور اقتدار نظر آتا ہے، وہ مومن کو حاصل ہونے والی نعمتوں کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ کیونکہ ان کافروں اور فاجروں کا باطن—اگرچہ ظاہر میں عزت، مال اور مرتبہ ہو—مگر حقیقت میں حسرت، انتشار، بدحالی، مخلوق کا خوف اور آنے والی مصیبتوں کا ڈر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا * وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى﴾- اور جو میری یاد سے منہ موڑے، اس کی زندگی تنگ ہوگی، اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے.
اس کے برعکس مومنوں کے دل رضا، سکون اور اطمینان سے بھرے ہوتے ہیں؛
ایمان کی لذت، اللہ کے قرب کی مٹھاس، اس کے ذکر اور مناجات کی شیرینی،
اور اس کے ثواب-جنتِ نعیم-کی امید ان کے دلوں میں بسی ہوتی ہے۔
چھٹا اصول: مومن پر آنے والا ابتلاء دوا کی مانند ہوتا ہے۔
یہ اس کے اندر سے وہ خرابیاں نکال دیتا ہے جو اگر باقی رہتیں تو یا تو اسے ہلاک کر دیتیں یا اس کے اجر کو کم کر دیتیں۔ابتلاء مومن کو بلند تربیت تک پہنچاتا ہے، اس کے لیے یقین کی حاضری پیدا کرتا ہے،اس کے رب کے قرب کو مضبوط کرتا ہے، اللہ کے در پر عاجزی، انکسار اور پناہ کو بڑھاتا ہے۔
جیسا کہ نبی ﷺ نے صحیح مسلم میں فرمایا (قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ مومن کے لیے جو بھی فیصلہ کرتا ہے وہ اس کے لیے خیر ہی ہوتا ہے۔اگر اسے خوشی ملے تو وہ شکر کرتا ہے، تو وہ بھی اس کے لیے خیر ہے،اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے، تو وہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔اور یہ بات مومن کے سوا کسی کے لیے نہیں).-اور حدیث میں بھی آیا ہے کہ :یہ سب کچھ صرف مؤمن کے لیے ہے، یعنی: یہ خصوصیت صرف مومن کے لیے ہے کہ اللہ کا ہر فیصلہ اس کے حق میں خیر ہوتا ہے، بلا شبہ خیر ہوتا ہے۔
لہٰذا مومن پر لازم ہے کہ راضی رہے، تسلیم کرے اور مطمئن رہے،کیونکہ جو مصیبت اس پر آئی ہے وہ بھی خیر ہی ہے، اور یقیناً اللہ مومن کے لیے کوئی فیصلہ ایسا نہیں کرتا جو اس کے لیے خیر نہ ہو۔
اچها – ذرا غور کیجیے: سب سے زیادہ آزمائش انبیاء علیہم السلام پر آئی۔
جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (سب سے زیادہ آزمائش انبیاء پر آتی ہے، پھر جو ان کے بعد درجہ میں ہوں) پھر بہتر سے بہتر، آدمی کو اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے، اگر اس کے دین میں مضبوطی ہو تو اس کی آزمائش بڑھا دی جاتی ہے۔) اور حدیث میں (یہ بات) حدیث کے آخر تک آئی ہے – يعني: حدیث کے آخر میں فرمایا:مومن پر آزمائش آتی رہتی ہے یہاں تک کہ وہ زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا) یہ حدیث صحیح ہے۔
معلم یا ساتواں اصل ان اصول میں سے جو ذکر کیے گئے تھے، ابن القیم رحمہ اللہ تعالى نے فرمایا: کہ جو کچھ بھی مومن پر دشمن کی غلبہ، برتری یا قابو پانے کی صورت میں آتا ہے، وہ لازم ہے۔ یہ مومن کی زندگی کا حصہ ہے، جیسے شدید گرمی، سخت سردی، فکر و پریشانی اور بیماری زندگی کا حصہ ہیں۔یہ انسانی فطرت کے لیے ضروری ہے، بچوں اور جانوروں کے لیے بھی۔ پس اللہ کی حکمت نے یہ تقاضا کیا
کہ اگر دنیا میں صرف خیر ہو اور شر نہ ہو، فائدہ ہو اور نقصان نہ ہو، خوشی ہو اور درد نہ ہو، تو یہ دنیا ایک مختلف اور غیر حقیقی دنیا بن جاتی، یہ حکمت ہر اچھائی، برائی، تکلیف اور خوشی میں قائم ہوئی، اور اصل حکمت—خیر اور شر، درد اور لذت کا امتیاز—آخرت میں ظاہر ہوتی۔ اس دنیا میں اللہ نے خیر و شر، نیک اور ناپاک کو مخلوقات میں ملا رکھا ہے تاکہ وہ پرکھے:﴿لِيُمَيِّزَ اللَّهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ﴾ – تاکہ اللہ ناپاک/خراب کو پاک/اچھے سے الگ کرے.
آٹھواں اور آخری اصول:جب دشمن مسلمانوں پر غالب آ جاتے ہیں—یعنی مسلمانوں کی شکست یا دشمن کی فتح ، کہا : اس کے پیچھے بھی عظیم حکمتیں ہیں جن کی تفصیل صرف اللہ عزوجل جانتا ہے۔ ان حکمتوں میں سے، جو دشمنوں کی مسلمانوں پر غالب آنے میں ہیں، زمین کا ذکر پہلی حکمت يه ہے- مومن کی بندگی اور ذلت کو ظاہر کرنا: دشمن کی غلبہ مومن کی اللہ کے سامنے انکسار اور بندگی کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر مسلمان ہمیشہ فتح یاب رہتے تو غرور اور طغیان پیدا ہوتا، اور اگر ہمیشہ شکست خوردہ رہتے تو دین قائم نہ رہتا۔ اور یہ واضح ہے،
دوسرا (نکتہ) دشمن کی برتری میں یہ ہے کہ اگر وہ ہمیشہ فتحیاب رہتے، تو ان کے ساتھ وہ لوگ بھی شامل ہو جاتے جن کا مقصد دین اور رسول ﷺ کی اتباع نہیں ہوتا۔ بلكے بہت سے لوگ صرف دنیا کی لذت کے لیے شامل ہوتے.
تیسرا (نکتہ یہ ہے) کہ اللہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی عبادت کو خوشحالی اور مصیبت کے حالات میں مکمل کرے، یعنی انسان خوشحالی میں شکر کرے اور مصیبت میں صبر کرے، اور راضی ہو جائے اور تسلیم کر لے۔
چوتھا: آزمائش، صفائی اور تزکیہ/ترتیب دینا::﴿ وليمحص الله الذين امنوا ويمحق الكافرين ﴾ تاکہ اللہ مومنین کو آزما کر صاف کرے اور کافروں کو نیست و نابود کرے- پس یہ مصیبت ایک طرح سے تطہیر اور نجات کا سبب بنتی ہے، انسان اپنی جانچ پڑتال کرتا ہے اور ہر مصیبت کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے، اور یہ تمام آزمائشیں انسان کو اپنی ذات کی طرف واپس لوٹاتی ہیں۔، کیونکہ اللہ فرماتا ہے:﴿وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ﴾ اور جو بھی مصیبت تم پر آتی ہے، وہ تمہارے اپنے کیے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے.
اہم نکتہ: پس کامیاب اور بصیر وہ ہے جو جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا نہیں جاتا ، نہ تو جزع کرتا ہےنہ دوسروں کو الزام دیتا ہے کہ انہوں نے نقصان پہنچایا
بلکہ وہ پہلے اپنے نفس کی طرف دیکھتا ہے، کیونکہ یہ مصیبت یا تو: اس کے گناہ، غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے ايا ہے.
ٹھیک ہے، وہ حق لے لیتا ہے، یعنی مثال کے طور پر وہ اپنے دشمن کو پہچانتا ہے؛ وہ اپنی ذات پر غور کر ے – کہ وہ پہچانے ،کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔ اور ممکن ہے کہ یہ ابتلاء گناہ کی وجہ سے نہ ہو، بلکہ اللہ کی حکمت سے درجات بلند کرنے کے لیے ہو، ابتلاء اللہ کی حکمت سے ہوتا ہے تاکہ درجات بلند کیے جائیں، اور اللہ بندے پر انعام فرماتا ہے کہ اسے یقین، ایمان میں اضافہ، دین کی بصیرت، واجبات کی انجام دہی، علم کی طلب، عبادت، احسان اور دیگر نیکیوں کی طرف رہنمائی حاصل ہو، وغیرہ
اب ہمارے ساتھ آخری موقف ہے، اور یہ ابتلاء کے حوالے سے ہیں – ہمارے ساتھ اس کے دو موقف ہیں .
وقفہ اول: جتنا زیادہ ایمان بڑھتا ہے، اتنی ہی بصیرت پیدا ہوتی ہے کہ انسان مصائب میں اللہ کے رضا پر راضی رہتا ہے۔ اس طرح بندے کے دل کو سکون حاصل ہوتا ہے، یہ اس کے ایمان میں اضافہ کرتا ہے، دل اللہ کے حکمت بھرے انتظام کو سمجھتا ہے، اس کے ثواب کی امید پیدا ہوتی ہے، اللہ کے قریب پہنچنے کے لیے نیک اعمال اور گناہوں و برائیوں سے توبہ اختیار کرتا ہے۔
وقفہ دوم: نتائج اور عواقب پر غور کرنا، جو لوگ ابتلاء کا شکار ہوئے، تاریخ میں، حال میں اور غائب لوگوں میں، اور جو کچھ انبیاء اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ ہوا، اور جو کچھ غیر انبیاء کے ساتھ صدیوں کے دوران پیش آیا۔
مثال کے طور پر، ہم چند فوری مثالیں لیتے ہیں: مثال کے طور پر، فرعون بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرتا ہے اور عورتوں اور بچوں کے ساتھ ظلم کرتا ہے؛ (يعني : عورتوں اور بچوں کے ساتھ بے حیائی کرتا ہے –اور يا ( فرعون بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرتا ہے، اور عورتوں اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا ہے)
نتیجہ اور انجام: جنت ان کے لیے جو فرعون نے قتل کیے، اور فرعون کے لیے غرقاب ہونا اور آگ میں جلنا.
دوسرا : جو لوگ انبیاء کو قتل کرتے ہیں، جیسے زکریا علیہ السلام کو قتل کرنے والے، انہیں جنہوں نے قتل کیا، ان کے لیے دنیا میں حسرت اور آخرت میں آگ ہے، اور جو شہداء ہوئے، اللہ انہیں جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے گا۔
اصحاب الأخدود: سب کو آگ میں جھونک دیا گیا، کسی کو نہیں بخشا گیا۔ زمین میں ان کے لیے خندقیں کھودی گئیں اور ان پر آگ بھڑکائی گئی۔ شہداء کو جنت میں پہنچایا گیا، اور جو ہلاک ہوئے (كافر)، وہ دوزخ میں گئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ البروج میں فرمایا: (ذَلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ ) یہ عظیم کامیابی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اسے “بہت بڑی کامیابی” قرار دیا۔ حالانکہ دنیاوی نتیجہ صفر تھا، یعنی دشمن نے ان پر 100٪ غالب آ کر سب کو ہلاک کر دیا، کسی کو نہ بچا۔ اگر ہم نتائج پر غور کریں، تو یہ مصائب کے پیچھے ایک بہت بڑی اہمیت اور سبق کا پیغام ہے۔
مثال چہارم: فرعون کی بیٹی اور اس کے بچے: ایک دن ماشطہ نے فرعون کی بیٹی کو پکڑا۔ ماشطہ ایمان والی تھی، تو کنگھی اس کے ہاتھ سے زمین پر گر گئی ، اور جب اس نے کہا “بسم اللہ”، فرعون کی بیٹی نے پوچھا : کیا اللہ میرے باپ کے علاوہ اور بھی ہے؟ ماشطہ نے جواب دیا :ہاں، میرا رب، تمہارا رب اور فرعون کا رب—سب کا رب—اللہ تعالیٰ ہے۔”
خلاصہ: فرعون کی بیٹی نے ماشطہ کو اپنے باپ کے پاس بھیجا۔
فرعون نے ماشطہ اور اس کے بچوں کو لایا اور اس پر زور ڈالا کہ وہ اللہ کا انکار کرے اور فرعون کو رب مان لے، مگر وہ انکار کر گئی۔
فرعون نے ایک بڑے تانبے کے برتن میں تیل گرم کیا اور ماشطہ کے چھوٹے بچوں کو اس میں ڈال دیا، جہاں ان کی ہڈیاں دکھائی دینے لگیں اور ان کی جانیں نکل گئیں۔ اور وہ دیکھتی رہی، اور اس کے ساتھ ایک بچہ اس کی گود میں باقی رہا۔ پھر اسے بھی ان کے ساتھ ملا دیا گیا۔روایات میں آیا ہے کہ و بچہ نے ماشطہ سے کہا:
“صبر کرو، اے ماں! تم حق پر ہو”۔ماشطہ نے صبر کیا اور حق پر قائم رہی۔
ہم پوچھ سکتے ہیں: ٹھیک ہے، یہ بچے اور ماشطہ، ان کا کیا قصور تھا کہ انہیں اس بھیانک طریقے سے مارا گیا؟) یہ اللہ کی حکمت ہے کہ ایمان والوں کی آزمائش کے پیچھے اللہ کی بڑی حکمت چھپی ہوئی ہے۔صحیح روایت میں آیا ہے کہ ماشطہ اور اس کے بچے جنت میں خوشبو محسوس کر رہے ہیں۔ فرعون کا انجام: دنیا میں غرق اور آخرت میں جہنم کی آگ۔
یہ سمیہ یاسر کے خاندان سے ہیں، ابو جہل نے انہیں نیزے سے مارا، نیزے کا وار ان کے پیٹ کے ساتھ ہوا، اور وہ ہلاک ہو گئیں ، یہاں ناظر (غور کرنے کا نقطہ) ایمان ہے۔یہ مسکینہ خاتون ابتدائی مسلمانو میں سے ایک مومنہ تھیں، پیغمبر ﷺ کی صحابیہ۔ اور یہ ظالم (ابو جہل) نے اسے اس بھیانک طریقے سے قتل کیا ،اس کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتی تھی: ﴿وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ﴾ (انہوں نے ان سے دشمنی نہیں کی مگر اس وجہ سے کہ وہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں، جو غالب اور تعریف کے لائق ہے) لیکن نتیجہ کیا ہوا؟ نتیجہ یہ ہے کہ سمیہ جنت میں گئی، اور ابو جہل جہنم میں گیا۔
اچها – اور دیگر عذاب پانے والوں، جن پر ظلم ہوا، اور مظلوموں کی مثالیں بھی ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ:ہر مومن پر کوئی نہ کوئی تکلیف آتی ہے، چاہے چھوٹی ہو یا بڑی، اور یہ اس کے اعمال کے توازن میں شامل ہوتی ہے۔ جو کچھ ظالم، فاجر یا کافر پر ظاہر ہوتا ہے، جیسے فتح یا دنیاوی کامیابی، دراصل دنیا میں حسرت، دل کی تنگی، مشکلات، لوگوں سے دشمنی، برے حالات اور خوف کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
اور اگر وہ شخص توبہ نہ کرے، تو اس کا انجام موت کے بعد بھی برا ہوگا۔
ہم اس قدر سے اکتفا کرتے ہیں:
“اے اللہ! ہمارے دل اور بصیرت کے دروازے کھول دے۔
ہمارے دلوں کو تیرے محبت، خوف، امید، تیرے قریب رجوع کرنے کی چاہ اور عبادت میں لذت حاصل کرنے کی توفیق دے۔
اے اللہ! ہمارے دلوں کو پاک کر اور ہمارے تمام اعضا کو محفوظ و مضبوط بنا۔
ہمیں تیرے فیصلوں اور تقدیر پر راضی، شکر گزار، صابر اور اجر کی امید رکھنے والا بنا دے۔ اے اللہ! ہمیں ان فتنوں سے بچا جو ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں۔
اے اللہ! ہمارے دلوں کو تیرے اطاعت پر ثابت قدم رکھ، اور ہمیں تیرے دین پر قائم رکھ۔ہمیں صرف تیری اطاعت کی طرف مائل کر۔ اے اللہ! محمد ﷺ اور ان کے اہل بیت پر درود بھیج۔ یقیناً تو ہی تعریف کے لائق اور جلیل القدر ہے۔پاک ہے تو، اے اللہ! اور ہم تیرے حمد کے ساتھ گواہی دیتے ہیں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔اے اللہ! میں تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔”






شاركنا بتعليق
بدون تعليقات حتى الآن.