خوف رکھنے والوں کے مقامات

الخميس _25 _يونيو _2026AH admin
خوف رکھنے والوں کے مقامات

اللہ سبحانه و تعالیٰ کا خوف ایک عظیم ایمانی مقام ہے، جو مومن کی عملی اور روحانی علامات میں ظاہر ہوتا ہے۔
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اور اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ پر رحمتیں نازل فرمائے۔
خوف رکھنے والوں کے مقامات کے بارے میں ابن قیم رحمہ اللہ تعالى فرماتے ہیں:
(خوف، سلوکِ الی اللہ کے مقامات میں سے نہایت جلیل القدر اور اہلِ دل کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش مقام ہے، اور یہ ہر شخص پر فرض ہے۔” چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ ترجمه: پس تم اُن سے نہ ڈرو، بلکہ مجھ ہی سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔
اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ﴾ سے کیا وہ شخص مراد ہے جو زنا کرتا ہے، شراب پیتا ہے اور چوری کرتا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، اے صدیق کی بیٹی! بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو روزہ رکھتا ہے، نماز پڑھتا ہے، صدقہ کرتا ہے، اور پھر بھی ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں اس کا عمل قبول نہ کیا جائے۔
اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ تعالى نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
اور حسن بصری رحمہ اللہ تعالى نے فرمایا: اللہ ﷻ کی قسم! انہوں نے اطاعت کے کام کیے، ان میں خوب محنت کی، اور پھر بھی ڈرتے رہے کہ کہیں وہ ان سے رد نہ کر دیے جائیں۔
بلاشبہ مومن نے نیکی اور خوف دونوں کو جمع کیا ہوتا ہے، جبکہ منافق نے برائی اور بے خوفی کو جمع کر لیا ہوتا ہے۔
اور جنید رحمہ اللہ تعالى فرماتے ہیں: خوف یہ ہے کہ انسان ہر سانس کے ساتھ سزا کے اندیشے کو اپنے سامنے رکھے۔
قرآنِ مجید میں وجل، خشیت، رہبت اور خوف کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ یہ معانی کے اعتبار سے ایک دوسرے کے قریب ہیں، لیکن بالکل مترادف نہیں ہیں۔
ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خوف عام مومنین کے لیے ہے، خشیت علماءِ عارفین کے لیے، ہیبت محبت رکھنے والوں کے لیے، اور اجلال مقرب بندوں کے لیے ہے۔
اور یہ نبی کریم ﷺ، جو تمام خوف رکھنے والوں کے سردار ہیں، اپنے بارے میں فرماتے ہیں:
(بے شك میں تم سب سے زیادہ اللہ ﷻکو جاننے والا اور تم سب سے زیادہ اس سے خشیت رکھنے والا ہوں۔ جیسا کہ صحیحین میں وارد ہوا ہے۔)
اور خوف کی علامات میں سے ایك وہ ہے جسے ابراہیم بن شیبان رحمہ اللہ تعالى نے بیان کیا:
(جب خوف دلوں میں جاگزیں ہو جاتا ہے تو وہ ان سے خواہشات کے ٹھکانے جلا دیتا ہے اور دنیا کی محبت کو وہاں سے نکال دیتا ہے۔
جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: (دو بھوکے بھیڑیے، جنہیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے، وہ اتنا فساد نہیں کرتے جتنا مال اور جاہ و منصب کی حرص انسان کے دین کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔
اور خوف رکھنے والے کی علامات میں سے یہ بھی ہے :کہ جب اسے کوئی نعمت حاصل ہو تو اسے یہ خوف لاحق رہے ، کہ کہیں وہ اس کا شکر ادا کرنے کا حق ادا نہ کر سکے، اور جب اس سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے ، تو وہ سزا سے ڈرتا رہے، اور جب کوئی نیکی کرے تو اسے یہ خوف ہو کہ کہیں وہ اس سے قبول نہ کی جائے۔ اور جب وہ کسی برائی کو دیکھے تو اپنے بارے میں اللہ سبحانه وتعالیٰ کی لعنت اور پکڑ سے ڈرتا رہے؛ جیسا کہ اللہ سبحانه وتعالیٰ نے بنی اسرائیل کے بارے میں فرمایا: ﴿لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ ۝ كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنكَرٍ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ﴾ ترجمه:
بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا، ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی، یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے بڑھتے رہے۔ وہ ایک دوسرے کو برے کاموں سے نہیں روکتے تھے جو وہ کرتے تھے، یقیناً بہت برا تھا جو وہ کیا کرتے تھے۔)
اور خوف رکھنے والے کی علامات میں سے یہ بھی ہے : کہ وہ اپنے عمل کو جنت کی قیمت اور جہنم سے نجات کا معاوضہ نہیں سمجھتا، بلکہ وہ اپنے آپ کو اپنے رب کی رحمت اور فضل کا محتاج سمجھتا ہے۔
اور خوف رکھنے والا وہ نہیں ہوتا جو اپنی اطاعت کا احسان اپنے رب پر جتائے، نہ وہ اپنے عقل اور خواہش کو اللہ کے مقابلے میں حَکَم بناتا ہے اور نہ اپنے رب کے فیصلوں پر اعتراض کرتا ہے، بلکہ خوف رکھنے والا وہ ہے : جو اللہ ﷻکے حکم، اس کی شریعت اور اس کی تقدیر کو قبول کرتا ہے، خواہ اس کی عقل اس کی حکمت کو سمجھے یا نہ سمجھے، اور خواہ اس کی نفس و عاطفہ اسے پسند کریں یا نہ کریں۔ اور جو شریعت کے بعض احکام کو قبول کرے اور بعض کو رد کر دے، وہ درحقیقت اپنے عقل اور خواہش کا بندہ ہے، اللہ کا سچا بندہ نہیں۔
اور خوف رکھنے والا مشتبہ چیزوں، خصوصاً کھانے پینے کے معاملات میں، پرہیز اختیار کرتا ہے۔ پس جس نے شبہات سے بچاؤ اختیار کیا، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا، اور جو شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں جا پڑا، جیسے وہ چرواہا جو چراگاہ کی ممنوعہ حدود کے قریب اپنے جانور چراتا ہے، عنقریب وہ اس میں داخل ہو جاتے ہیں۔ سن لو! ہر بادشاہ کی ایك محفوظ حد ہوتی ہے، اور سن لو! اللہ ﷻ کی محفوظ حد اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔
اور خوف رکھنے والوں کے مقامات میں سے وہ بات بھی ہے : جو ہروی رحمہ اللہ تعالى نے ذکر کی ہے کہ بندے کا خوف تین طرح کا ہوتا ہے: سزا کا خوف، اللہ ﷻ کی خفیہ تدبیر اور انجامِ بد یعنی ہدایت کے بعد گمراہی اور پھسل جانے کا خوف، اور اللہ سبحانه وتعالیٰ کی عظمت و جلال کے سبب پیدا ہونے والا خوف۔ واللہ أعلم، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.

شاركنا بتعليق


3 × ثلاثة =




بدون تعليقات حتى الآن.