رعایا پر ہونے والے مظالم کا سراغ لگانے میں حاکم کی احتیاط
الأحد _30 _أغسطس _2026AH admin
قصے اور عبرتیں:
معتضد رحمہ اللہ تعالى کے بارے میں روایت کیا جاتا ہے کہ ایك دن ان کے ایك خادم نے آکر انہیں بتایا :کہ ایک مچھیرے نے اپنا جال پانی میں ڈالا۔ جال بھاری ہوگیا تو اس نے اسے کھینچا، دیکھا کہ اس میں ایک تھیلا ہے۔ اس نے گمان کیا : کہ اس میں مال ہوگا، لیکن جب اسے کھولا تو اس میں اینٹیں تھیں، اور ان اینٹوں کے درمیان ایک مہندی لگی ہوئی عورت کا ہاتھ تھا۔
یہ دیکھ کر معتضد رحمہ اللہ تعالى سخت پریشان ہوئے اور مچھیرے کو حکم دیا کہ دوبارہ جال ڈالے۔ اس نے دوبارہ جال ڈالا تو ایک اور تھیلا نکلا، جس میں ایک عورت کی ٹانگ تھی۔
معتضد رحمہ اللہ تعالى نے فرمایا : کیا میرے ملك میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جو یہ ظلم کرتا ہے؟ یہ حکومت نہیں ہے!
پھر انہوں نے اس دن کھانا نہیں کھایا۔ اس کے بعد اپنے ایک قابلِ اعتماد آدمی کو بلایا، اسے وہ تھیلا دیا اور فرمایا: اس تھیلے کو ان لوگوں کے پاس لے جاؤ جو ایسے تھیلے بناتے ہیں، اور معلوم کرو کہ یہ تھیلا کس نے فروخت کیا تھا ۔
وہ آدمی گیا اور واپس آیا تو اسے تھیلا فروخت کرنے والے کا پتا چل چکا تھا۔ معلوم ہوا کہ ایک عطار نے اس سے ایک تھیلا خریدا تھا۔ وہ عطار کے پاس گیا اور پوچھا، تو اس نے کہا:
ہاں، فلاں ہاشمی شخص نے مجھ سے دس تھیلے خریدے تھے، اور وہ ایک ظالم آدمی ہے۔
پھر اس نے مزید بتایا: آپ کے لیے اتنا جان لینا کافی ہے کہ وہ ایک گانے والی عورت پر عاشق تھا۔ اس نے اس عورت کو اس کے مالك سے کرائے پر لیا، پھر یہ دعویٰ کیا کہ وہ عورت بھاگ گئی ہے، جب معتضد رحمہ اللہ تعالى نے یہ بات سنی تو انہوں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔ پھر اس ہاشمی شخص کو بلایا اور اس کے سامنے وہ ہاتھ اور ٹانگ نکال کر رکھ دیے۔ وہ شخص زرد پڑ گیا اور اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔
چنانچہ معتضد رحمہ اللہ تعالى نے اس لونڈی کے مالك کو اس کی قیمت ادا کی، اور اس ہاشمی شخص کو قید کردیا۔ کہا جاتا ہے کہ بعد میں معتضد رحمہ اللہ تعالى نے اسے قتل کروا دیا۔
حوالہ : سير أعلام النبلاء، 13/466.






شاركنا بتعليق
بدون تعليقات حتى الآن.