صالحینِ تونس کی ثابت قدمی اور صحابہؓ سے ان کی محبت واقعات اور عبرتیں

الأربعاء _7 _يناير _2026AH admin
صالحینِ تونس کی ثابت قدمی اور صحابہؓ سے ان کی محبت واقعات اور عبرتیں

ابوالحسن القابسیؒ، صاحبِ الملخّص فرماتے ہیں: جن لوگوں کو عبیدُ اللہ اور اس کے بیٹوں نے دارُ النحر میں قتل کیا، ان کی تعداد چار ہزار تھی۔ یہ سب علماء اور عبادت گزار لوگ تھے۔ ان پر عذاب اس لیے مسلط کیا گیا کہ وہ صحابۂ کرامؓ سے براءت اختیار کریں، مگر انہوں نے ایسا کرنے کے بجائے موت کو ترجیح دی۔
چنانچہ شاعر سہل نے کہا: – دارُ النحر کو اس نے اپنی زنجیروں میں جکڑ دیا،
وہ سب لوگ جو تقویٰ والے تھے اور نمازوں والے تھے۔”
اور ان میں سے اکثر کو منستير میں دفن کیا گیا، جسے فرنگیوں کی زبان میں
“المعبد الكبير” (بڑا عبادت خانہ) کہا جاتا ہے۔
حواله – سیر أعلام النبلاء، (15/145).

شاركنا بتعليق


واحد × خمسة =




بدون تعليقات حتى الآن.