عقیدے کی غلطیاں
الجمعة _15 _مايو _2026AH admin
قبروں پر ، یا ان کے اردگرد درخت اور پودے لگانے کی غلطی:
فضیلة الشیخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ تعالى سے پوچھا گیا:
کچھ علاقوں میں یہ رواج ہے کہ قبروں پر یا ان کے اردگرد درخت اور مختلف پودے لگائے جاتے ہیں، اور بعض لوگ ان کی دیکھ بھال بھی کرتے ہیں، یہاں تک کہ قبرستان باغ کی طرح نظر آنے لگتا ہے۔ اس کا کیا حکم ہے؟
شیخ رحمہ اللہ تعالى نے جواب دیا: قبرستان مردوں کو دفن کرنے کی جگہ ہے، یہ کھیتی باڑی کی زمین نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ محمد صلى الله عليه وسلم کی اس سنت کی نقالی کرنا چاہتے ہوں، جب آپ ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: (یہ دونوں عذاب دیے جا رہے ہیں، اور کسی بڑے (مشکل) گناہ کی وجہ سے نہیں…) پھر آپ ﷺ نے ایک تازہ کھجور کی ٹہنی لی، اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور ہر قبر پر ایک ایک گاڑ دی۔ جب آپ ﷺ سے پوچھا گیا تو فرمایا:
(شاید جب تک یہ خشک نہ ہوں، ان کے عذاب میں کمی ہو جائے۔)
اگر ان لوگوں کا یہی مقصد ہے تو انہوں نے کئی طرح سے غلطی کی ہے:
پہلی غلطی: یہ نبی ﷺ کا عمومی طریقہ نہیں تھا کہ ہر قبر پر ایسا کیا جائے، بلکہ یہ عمل خاص دو قبروں کے ساتھ تھا جن کے بارے میں آپ ﷺ کو بتایا گیا تھا کہ انہیں عذاب ہو رہا ہے۔ لہٰذا ہر قبر پر ایسا کرنا بدعت ہے اور سنت کے خلاف ہے۔
دوسری غلطی: یہ میت کے بارے میں بدگمانی ہے کہ وہ عذاب میں مبتلا ہے، جو کہ میت کے حق میں طعن ہے۔ کیونکہ نبی ﷺ نے ٹہنی رکھنے کی وجہ یہی بیان کی کہ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے۔
تو کیا یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے والدین، اولاد، رشتہ دار یا دوست عذاب میں مبتلا ہیں؟ ماخوذ از: مجموع فتاوى ورسائل العثيمين 17/449))






شاركنا بتعليق
بدون تعليقات حتى الآن.