قبرستان کی زیارت کے دوران زیادہ قیل و قال کرنا ایک غلطی ہے
الأثنين _30 _مارس _2026AH admin
عقیدے سے متعلق غلطیاں:
جناب شیخ رحمہ اللہ تعالى سے پوچھا گیا:
کچھ عام لوگ جب قبرستان میں آتے ہیں تو اسے دنیاوی باتوں اور قیل و قال کا مقام بنا لیتے ہیں۔ جو شخص قبرستان کی زیارت کے لیے آئے یا جنازے کے ساتھ آئے، آپ اس کو کیا نصیحت فرماتے ہیں؟ اور اسے وہاں کس چیز میں مشغول ہونا چاہیے؟
شیخ رحمہ اللہ تعالى نے جواب دیا:
ہماری نصیحت یہ ہے کہ جو شخص قبرستان کی زیارت کرے ، وہ وہی دعا پڑھے جو سنت میں آئی ہے: (السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَمِنْكُمْ وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُمْ)
ترجمہ: تم پر سلام ہو اے مومنوں کے گھر والو! اور ہم بھی ان شاء اللہ تم سے آ ملنے والے ہیں۔ اللہ ﷻ ہم میں سے پہلے گزر جانے والوں اور بعد میں آنے والوں پر رحم فرمائے۔ ہم اللہ سبحانه وتعالى سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت مانگتے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں ان کے اجر سے محروم نہ کرنا، اور ان کے بعد ہمیں آزمائش میں نہ ڈالنا، اور ہمیں اور انہیں بخش دے۔
قبرستان کی زیارت کرنے والے کے لیے مناسب نہیں کہ وہاں دنیا کی باتیں کرے یا ایسی باتیں کرے جو ہنسی اور قہقہے کا سبب بنیں وغیرہ۔ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: (قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہیں).
پس قبروں کی زیارت میں سنت یہ ہے کہ انسان نصیحت حاصل کرے، عاجزی اور خشوع کے ساتھ رہے، اپنے انجام کو یاد کرے، اور یہ سوچے کہ وہ بھی ایک دن اسی جگہ پہنچے گا جہاں یہ لوگ پہنچ چکے ہیں۔ واللہ المستعان
حوالہ: کتاب مجموع فتاوى ورسائل العثيمين (17/444)۔






شاركنا بتعليق
بدون تعليقات حتى الآن.