قبروں کی عبادت کرنے والے لوگ اس فتنے میں کیسے مبتلا ہوئے؟ (حصہ اول)

الثلاثاء _21 _يوليو _2026AH admin
قبروں کی عبادت کرنے والے لوگ اس فتنے میں کیسے مبتلا ہوئے؟ (حصہ اول)

اخلاق و ایمان: اگر یہ سوال کیا جائے کہ: قبروں کی عبادت کرنے والے لوگ اس فتنے میں کیسے مبتلا ہوگئے، جبکہ وہ جانتے ہیں کہ قبروں میں دفن لوگ وفات پا چکے ہیں، وہ نہ کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں، نہ نقصان، نہ موت و زندگی کے مالک ہیں اور نہ دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے اس فتنے میں مبتلا ہونے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
-1 توحید کے بارے میں جہالت: سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت سے ناواقف رہے جس کے ساتھ اللہ سبحانه وتعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ بلکہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، یعنی خالص توحید قائم کرنا اور شرک کے تمام اسباب کا خاتمہ کرنا۔
ان لوگوں کا توحید کے علم میں حصہ بہت کم تھا، چنانچہ شیطان نے انہیں گمراہ کیا، اور ان کے پاس ایسا صحیح علم موجود نہ تھا جو شیطان کے شبہات کو رد کر سکتا۔ اسی لیے وہ اپنی جہالت کے بقدر شیطان کی باتوں میں آتے گئے، جبکہ جس قدر ان کے پاس صحیح علم تھا، اسی قدر وہ محفوظ رہے۔
– 2 من گھڑت اور جھوٹی احادیث: دوسری وجہ وہ جھوٹی اور من گھڑت احادیث ہیں جنہیں قبروں سے غلو رکھنے والے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر دیا، حالانکہ وہ آپ ﷺ کے دین اور آپ کی لائی ہوئی تعلیمات کے سراسر خلاف ہیں۔ مثلاً یہ روایت: ( جب تمہارے معاملات مشکل ہو جائیں تو قبروں والوں سے مدد مانگو)
اور یہ روایت: ( اگر تم میں سے کوئی کسی پتھر کے بارے میں حسنِ ظن رکھے تو وہ بھی اسے فائدہ پہنچا دے گا)
یہ اور اس قسم کی تمام روایات اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ انہیں مشرکین نے گھڑا، اور جاہل اور گمراہ لوگوں نے انہیں قبول کر لیا۔ حالانکہ اللہ سبحانه وتعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اس لیے بھیجا کہ وہ ہر اس عقیدے کو ختم کریں جس میں پتھروں، قبروں یا دیگر مخلوقات سے امیدیں وابستہ کی جائیں، اور آپ ﷺ نے اپنی امت کو قبروں کے فتنے سے ہر ممکن طریقے سے بچانے کی تعلیم دی۔
حوالہ: إغاثة اللهفان في مصايد الشيطان، امام ابن القيم رحمہ اللہ، جلد 1، صفحہ 387 (طبع عطاءات العلم)۔

شاركنا بتعليق


11 − إحدى عشر =




بدون تعليقات حتى الآن.