قبروں کے پاس کی جانے والی بدعات

الأحد _30 _أغسطس _2026AH admin
قبروں کے پاس کی جانے والی بدعات

ہمارے شیخ ، یعنی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالى ، نے فرمایا: قبروں کے پاس کی جانے والی یہ بدعات مختلف درجوں پر ہیں:
سب سے زیادہ شریعت سے دور یہ ہے کہ انسان اپنی حاجت میت سے مانگے ، اور اپنی حاجت کے سلسلے میں اس سے فریاد کرے، جیسا کہ بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ تعالى نے فرمایا: یہ لوگ بتوں کی عبادت کرنے والوں ہی کی جنس سے ہیں۔ اسی وجہ سے کبھی شیطان ان کے لیے میت یا کسی غائب شخص کی شکل میں ظاہر ہوجاتا ہے، جیسے وہ بتوں کی عبادت کرنے والوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ چیز مشرك کافروں اور اہلِ کتاب کے ساتھ بھی پیش آتی ہے؛ ان میں سے کوئی شخص جس کی تعظیم کرتا ہے اسے پکارتا ہے تو کبھی شیطان اس کے سامنے اس شخص کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور کبھی انہیں بعض غیبی امور کی خبر بھی دیتا ہے۔
اسی طرح قبر کو سجدہ کرنا، اس سے تبرك کے طور پر بدن ملنا اور اسے بوسہ دینا بھی اسی میں شامل ہے۔
دوسرا درجہ: یہ ہے کہ انسان اللہ سبحانه وتعالیٰ سے کسی قبر والے کے وسیلے سے دعا مانگے۔ یہ کام بہت سے متأخرین کرتے ہیں، اور مسلمانوں کے اتفاق کے مطابق یہ بدعت ہے۔
تیسرا درجہ: یہ ہے کہ انسان خود قبر والے سے اپنی حاجت مانگے۔
چوتھا درجہ: یہ ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ قبر کے پاس دعا قبول ہوتی ہے، یا وہاں دعا کرنا مسجد میں دعا کرنے سے افضل ہے، چنانچہ اپنی حاجتیں پوری ہونے کے لیے قبر کی زیارت اور وہاں نماز پڑھنے کا قصد کرے۔
یہ بھی مسلمانوں کے اتفاق کے مطابق منکر اور بدعتی کام ہے اور حرام ہے۔ مجھے ائمۂ دین کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف معلوم نہیں، اگرچہ بہت سے متأخرین ایسا کرتے ہیں، اور بعض لوگ کہتے ہیں : فلاں کی قبر ایک آزمودہ علاج ہے۔
اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالى کے بارے میں جو یہ حکایت نقل کی جاتی ہے ، کہ وہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالى کی قبر کے پاس دعا کرنے کا قصد کرتے تھے، یہ کھلا ہوا جھوٹ ہے۔
حوالہ : إغاثة اللهفان في مصايد الشيطان، ۱/۳۹۱، ط: عطاءات العلم۔

شاركنا بتعليق


سبعة عشر − 3 =




بدون تعليقات حتى الآن.