قریب فوت ہونے والے شخص کے بارے میں یہ کہنا: (فلاں کو اللہ ﷻنے یاد کر لیا)

الثلاثاء _21 _يوليو _2026AH admin
قریب فوت ہونے والے شخص کے بارے میں یہ کہنا: (فلاں کو اللہ ﷻنے یاد کر لیا)

عقیدے کی غلطیوں میں سے ایک غلطی:
علامة شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ تعالى سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا ،جس کے متعلق وفات کے بعد لوگ کہتے ہیں: ( فلاں کو اللہ نے یاد کر لیا).
آپ رحمہ اللہ تعالى نے جواب دیا: اگر اس کہنے والے کی مراد یہ ہو ، کہ اللہ سبحانه وتعالیٰ نے پہلے اسے بھلا دیا تھا، پھر یاد آیا ، اور اس کے بعد اس کی روح قبض کر لی، تو یہ کفریہ کلمہ ہے، کیونکہ اس سے لازم آتا ہے کہ اللہ ﷻ بھول جاتے ہیں، حالانکہ اللہ سبحانه وتعالیٰ ہر قسم کی بھول سے پاك ہیں۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے سوال کے جواب میں فرمایا: ﴿قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُونِ الْأُولَىٰ ۝ قَالَ عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي فِي كِتَابٍ ۖ لَا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنسَىٰ﴾
(فرعون نے کہا: پھر پہلی امتوں کا کیا حال ہے؟ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں محفوظ ہے، میرا رب نہ غلطی کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے) . (سورۂ طٰہٰ: 51-52)
البتہ اگر کہنے والا جاہل ہو اور اس کی مراد : صرف یہ ہو کہ اللہ سبحانه وتعالیٰ نے اسے اپنے پاس بلا لیا یا اس کی روح قبض کر لی، تو وہ اس وجہ سے کافر نہیں ہوگا، لیکن اسے چاہیے کہ اپنی زبان کو ایسے الفاظ سے پاك رکھے، کیونکہ یہ ایسے الفاظ ہیں جن سے اللہ رب العالمین کی شان میں نقص کا وہم پیدا ہوتا ہے۔
اس کی بجائے یوں کہنا چاہیے: (اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی) (اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا) (ان کا انتقال ہوگیا)
(اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کر لی) حوالہ: مجموع فتاوى ورسائل الشيخ ابن عثيمين، جلد 17، صفحہ 453۔

شاركنا بتعليق


14 − 1 =




بدون تعليقات حتى الآن.