مرحوم کی روح ہمارے درمیان ہے : کہنا ایک غلط عقيده ہے
الأحد _30 _أغسطس _2026AH admin
عقیدے سے متعلق غلطیاں:
فضیلة الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ تعالیٰ سے پوچھا گیا کہ اس قول کا کیا حکم ہے: مرحوم کی روح کے نام، اے وہ روح جو ہمارے درمیان مقیم ہے !
شیخ رحمہ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا : بعض لوگ جب کوئی نیک عمل کرتے ہیں تو کہتے ہیں: «یہ فلاں شخص کی روح کے لیے ہدیہ ہے- یا (فلاں کی روح کے لیے) ۔ اس طرح کے الفاظ کہنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ مسلمان کے لیے ثواب پہنچانے کی نیت عمل شروع کرنے سے پہلے ہی دل میں کی جاتی ہے، اور دل کی نیت زبان سے الفاظ ادا کرنے سے بے نیاز کردیتی ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص زبان سے کہے: اے اللہ! میرے اس عمل کا ثواب فلاں شخص کو عطا فرما( تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
لیکن یہ کہنا کہ (مرحوم کی روح ہمارے درمیان موجود ہے- جائز نہیں؛ کیونکہ اللہ سبحانه وتعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولًا﴾ ترجمه : اور جس چیز کا تمہیں علم نہیں، اس کے پیچھے نہ پڑو۔ بے شك کان، آنکھ اور دل، ان سب کے بارے میں پوچھا جائے گا . ( ہمیں یہ معلوم نہیں کہ مرحوم کی روح ہمارے درمیان یا ہمارے اندر موجود ہے؛ لہٰذا یہ قول بھی ان باتوں میں شامل ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ۔ حوالہ : مجموع فتاوى ورسائل العثيمين، ۱۷/۴۵۵۔






شاركنا بتعليق
بدون تعليقات حتى الآن.