– میت کے بارے میں (مرحوم) کہنا (خبر کے طور پر) غلطی
السبت _6 _يونيو _2026AH admin
عقیدے کی غلطیاں:
فضیلة الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالى سے سوال کیا گیا: کیا فوت شدگان کے لیے (مرحوم) کہنا درست ہے؟ مثلاً یہ کہنا کہ(مرحوم فلاں)؟
تو انہوں نے جواب دیا: اگر کوئی شخص میت کے بارے میں خبر کے طور پر کہے: “مرحوم” یا “مغفور لہ” وغیرہ، تو یہ جائز نہیں؛ کیونکہ انسان کو یہ معلوم نہیں کہ اسے واقعی رحمت ملی ہے یا نہیں۔ اور جس بات کا علم نہ ہو اس پر یقین کے ساتھ گواہی دینا درست نہیں، کیونکہ یہ بغیر علم کے کسی کے لیے رحمت و مغفرت کی شہادت ہے، اور بغیر علم کے شہادت دینا حرام ہے۔
البتہ اگر یہ الفاظ دعا اور امید کے طور پر کہے جائیں، یعنی یہ مراد ہو کہ اللہ سبحانه وتعالیٰ اس پر رحم فرمائے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ چاہے آپ کہیں (مرحوم) یا اللہ اس پر رحم فرمائے)، دونوں میں کوئی فرق نہیں؛ کیونکہ دونوں الفاظ خبر اور دعا دونوں کے معنی میں آ سکتے ہیں، اور یہ بات کہنے والے کی نیت پر منحصر ہے۔
اور جو لوگ کہتے ہیں: (فلاں مرحوم ہے- یا مغفور لہ ہے) ان کی مراد یہ نہیں ہوتی کہ وہ یقینی طور پر اس کی مغفرت کی گواہی دے رہے ہیں، بلکہ ان کی مراد دعا اور امید ہوتی ہے۔ اس لیے یہ کلمات استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حواله : مجموع فتاوى ورسائل ابن عثیمین: (17/451).






شاركنا بتعليق
بدون تعليقات حتى الآن.