غزوۂ احزاب

السبت _7 _مارس _2026AH admin
غزوۂ احزاب

الحمدُ لله ربِّ العالمين، وبه نستعين ، اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آله وصحبه أجمعين۔
تمام بہنوں کو خوش آمدید، اور ہم اللہ عزوجل سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں وہ علم عطا فرمائے جو ہمارے لیے نافع ہو اور ہمیں اس علم سے فائدہ دے جو اس نے ہمیں سکھایا، بے شک وہی سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔
آج ان شاء اللہ ہم غزوۂ احزاب کا ذکر کریں گے۔ پہلے اس کا مختصر جائزہ پیش کیا جائے گا، پھر وقت کے مطابق اس سے حاصل ہونے والے بعض اسباق پر گفتگو کریں گے۔
غزوۂ احزاب شوال سنہ پانچ ہجری میں پیش آیا، یہی قول صحیح ہے۔ کیونکہ غزوۂ اُحد کے بعد مشرکین نے نبی ﷺ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اگلے سال دوبارہ جنگ کے لیے آئیں گے، لیکن چوتھے سال قحط کی وجہ سے وہ نہ آئے۔ پھر پانچویں سال وہ جنگ کے ارادے سے نکلے۔
جب یہودیوں کو اس کا علم ہوا تو ان کے چند سردار، سلام بن ابی الحقیق، سلام بن مشکم اور کنانہ بن ربیع قریش کے پاس گئے اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے خلاف جنگ پر ابھارا ، اور کہا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ پھر وہ قبیلہ غطفان کے پاس گئے اور انہیں بھی ساتھ ملایا۔ اسی طرح بنو سلیم، بنو اسد، بنو فزارہ، اشجع اور بنو مرہ وغیرہ قبائل بھی اس اتحاد میں شامل ہوگئے۔ کل دس ہزار کا لشکر تیار ہوا: چار ہزار قریش کے اور چھ ہزار باقی قبائل کے۔
رسول اللہ ﷺ کو خبر ملی تو آپ ﷺ تین ہزار صحابہ کے ساتھ نکلے، جن میں بعض منافقین بھی شامل تھے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے خندق کھودنے کا مشورہ دیا۔ خندق حائل بن گئی، سامنے خندق اور پیچھے جبل سلع تھا۔
خندق کی کھدائی کے دوران سخت سردی، بھوک اور خوف کی کیفیت تھی۔ ایک بڑی چٹان آ گئی جسے صحابہ توڑ نہ سکے۔ نبی ﷺ تشریف لائے، آپ نے بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے کدال ماری، چٹان ریزہ ریزہ ہو گئی اور آپ نے فارس، کسریٰ اور یمن کی فتح کی بشارت دی۔
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے چہرے پر بھوک کے آثار دیکھے۔ گھر جا کر اپنی اہلیہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ایک صاع جو اور ایک بکری کا بچہ ہے۔ (بکری کا بچہ جو شکل و صورت اور جسامت میں نر بکرے (تَيس) کی طرح ہو۔
پھر حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو اور چند صحابہ کو بلا لیجیے۔ چنانچہ وہ نبی ﷺ کے پاس گئے اور یہ خبر دی۔ نبی ﷺ نے حضرت جابر کی دعوت قبول فرما لی۔ اس وقت سب لوگ شدید بھوک کی حالت میں تھے، اور ایک روایت میں آتا ہے کہ انہیں تین دن سے کچھ کھانے کو نہیں ملا تھا۔
نبی ﷺ نے فرمایا: جو کے آٹے کا خمیر تیار کرو اور اس بکری کے بچے کا گوشت بھی تیار کرو، لیکن اسے پکانا شروع نہ کرنا جب تک میں نہ آ جاؤں، تاکہ میں اس میں برکت کی دعا کر دوں۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
پھر نبی ﷺ نے لوگوں میں اعلان فرما دیا، اور آپ ﷺ کے ساتھ تقریباً ایک ہزار آدمی آگئے۔ مہاجرین اور انصار سب تشریف لائے۔ جب حضرت جابر رضی اللہ عنہ واپس گھر پہنچے تو اپنی اہلیہ سے کہا: افسوس! رسول اللہ ﷺ مہاجرین و انصار کے ساتھ تشریف لے آئے ہیں، جبکہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ آپ ﷺ چند صحابہ کے ساتھ آئیں گے۔
پھر نبی ﷺ بیٹھ گئے، آپ ﷺ نے آٹے میں لعاب دہن ڈالا اور ہانڈی میں پکنے والے گوشت میں بھی لعاب دہن ڈالا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کھانے میں ایسی برکت عطا فرمائی کہ سب لوگوں نے خوب سیر ہو کر کھایا، اور کھانا باقی بھی بچ گیا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ گویا اس میں سے کچھ کم ہی نہ ہوا تھا۔ یہ سب رسول اللہ ﷺ کی دعا اور آپ ﷺ کے لعاب دہن کی برکت سے ہوا۔
پھر نبی کریم ﷺ نے حکم فرمایا کہ عورتیں اور بچے اپنے گھروں سے نکل کر مدینہ کے مضبوط قلعوں اور اونچی جگہوں (آطامِ مدینہ) کی طرف چلے جائیں، تاکہ انہیں کسی نقصان کا اندیشہ نہ رہے اور وہ محفوظ رہیں۔ اور آپ ﷺ نے ان پر نگرانی اور امارت کے لیے حضرت عبد اللہ بن اُمِّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا، جو نابینا صحابی تھے۔
پھر اسی دوران حيي بن أخطب (بنو نضیر کا سردار)، جنہیں نبی کریم ﷺ نے پہلے خیبر کی طرف جلا وطن کیا تھا، كعب بن أسد کے پاس آئے، جو بنو قریظہ کے رئیس تھے۔
بنو قریظہ یہودیوں کا وہ گروہ تھا جنہوں نے نبی ﷺ سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ مدینہ میں رہیں گے، اس شرط پر کہ وہ آپ ﷺ کے خلاف کسی دشمن کی مدد نہیں کریں گے اور نہ کسی دشمن کا ساتھ دیں گے۔
حُیَیّ بن اخطب کعب بن اسد کے قلعے پر آیا اور دروازہ کھٹکھٹایا، مگر اس نے دروازہ نہ کھولا۔ دوبارہ کھٹکھٹایا اور کہا: دروازہ کھولو۔ اس نے انکار کر دیا۔ پھر اس نے کہا: دروازہ کھولو، میں تمہارے پاس زمانے کی عزت لے کر آیا ہوں، میں قریش اور غطفان کو ساتھ لایا ہوں تاکہ ہم مل کر محمد ﷺ کا خاتمہ کر دیں۔
کعب بن اسد نے جواب دیا: اللہ کی قسم! تم میرے پاس زمانے کی ذلت لے کر آئے ہو۔ تم ایسے بادل لائے ہو جو گرجتا اور چمکتا تو ہے مگر اس میں کچھ نہیں۔
آخرکار اس نے دروازہ کھول دیا۔ حُیَیّ بن اخطب مسلسل اسے ورغلاتا رہا۔ کعب بن اسد کہتا تھا: میں نے محمد ﷺ سے سوائے وفاداری اور سچائی کے کچھ نہیں دیکھا۔ لیکن حُیَیّ کے اصرار اور دباؤ کے نتیجے میں وہ متاثر ہو گیا، اس نے عہد توڑ دیا، اور نبی ﷺ سے کیا ہوا معاہدہ پامال کر کے احزاب کے ساتھ جا ملا۔
البتہ اس نے شرط رکھی کہ اگر وہ محمد ﷺ پر غالب نہ آ سکے تو حُیَیّ بن اخطب اس کے ساتھ اس کے قلعے میں داخل ہو کر اس کا انجام بھی وہی ہوگا جو ان کا ہوگا۔
جب نبی کریم ﷺ کو بنو قریظہ کے عہد توڑنے کی خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے تحقیق کے لیے چند جلیل القدر صحابہ کو بھیجا: سعد بن معاذ، سعد بن عبادة، عبد الله بن رواحة اور خوات بن جبير رضی اللہ عنہم۔
آپ ﷺ نے انہیں ہدایت دی کہ جا کر معاملے کی حقیقت معلوم کریں، اور اگر واقعی خیانت ثابت ہو جائے تو کھلے الفاظ میں اعلان نہ کرنا، بلکہ اشارے سے بات سمجھا دینا تاکہ مسلمانوں کے حوصلے پست نہ ہوں۔
جب یہ حضرات بنو قریظہ کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہ واقعی بدترین حالت پر ہیں اور عہد توڑ چکے ہیں۔ انہوں نے گستاخی سے کہا: محمد کون ہے؟ ہمارا ان سے نہ کوئی عہد ہے اور نہ کوئی معاہدہ۔ بلکہ انہوں نے بدزبانی بھی کی اور نعوذ باللہ نبی ﷺ کے بارے میں بھی نازیبا کلمات کہے۔
یہ صحابہ واپس آئے اور نبی ﷺ کو کھلے لفظوں میں نہیں بلکہ رمز و اشارہ میں اطلاع دی۔ انہوں نے کہا: “عَضَلٌ والقارَة” — یعنی وہی معاملہ ہے جیسا عضل اور قارہ کے قبیلوں نے کیا تھا، جب انہوں نے مقامِ رجیع پر صحابہ کے ساتھ دھوکہ کیا تھا۔
جب خیانت کی خبر واضح ہو گئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“الله أكبر، أبشروا يا معشر المسلمين” )اللہ سب سے بڑا ہے، اے مسلمانوں خوشخبری ہو!)
یعنی انتہائی سخت حالات اور دو طرفہ خطرے کے باوجود آپ ﷺ نے گھبرانے کے بجائے اللہ پر کامل یقین کا اظہار کیا اور مسلمانوں کو فتح و نصرت کی بشارت دی۔
یہاں نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو فتح کی خوشخبری سنائی۔ عام طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ جب حالات سخت ہو جائیں، مصیبتیں بڑھ جائیں اور آزمائش طویل ہو جائے تو انسان کمزور پڑ جاتا ہے، ڈر جاتا ہے یا اس کی کیفیت بدل جاتی ہے۔ لیکن نبی ﷺ نے اس کے برعکس طرزِ عمل اختیار فرمایا۔ جب آپ ﷺ کو بنو قریظہ کی خیانت کی خبر ملی تو آپ ﷺ نے گھبرانے کے بجائے صحابہ کو نصرت کی بشارت دی۔
کیوں؟کیونکہ آپ ﷺ کو یقین تھا کہ آپ اللہ کے دین کی مدد کے لیے آئے ہیں، اور اللہ نے نصرت کا وعدہ فرمایا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (إن تنصروا الله ينصركم)
اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا.
پس اس بشارت نے مسلمانوں کے حوصلے، عزم اور امید میں اضافہ کر دیا۔
ادھر تمام قبائل نے مل کر اتحاد کر لیا، آزمائش شدید ہو گئی، آنکھیں خوف سے پتھرا گئیں اور دل گلے تک آ گئے، کیونکہ دس ہزار کا لشکر پورے ساز و سامان کے ساتھ مدینہ پر آن پہنچا تھا۔
ایسے موقع پر منافقین اور بعض کمزور ایمان والے لوگوں نے اجازت مانگی اور کہا: (یا رسول اللہ! ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں (إن بيوتنا عورة) وہ اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے تھے۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ حوصلہ ہار چکے تھے۔ اللہ سبحانه وتعالیٰ نے ان کے بارے میں قرآن میں فرمایا:(وما هي بعورة إن يريدون إلا فرارا) ان کے گھر غیر محفوظ نہیں تھے، وہ تو صرف بھاگنا چاہتے تھے. یعنی ان کا مقصد صرف گھروں کی حفاظت نہیں تھا بلکہ میدان سے فرار تھا، کیونکہ ان کے دلوں میں وہ ایمان اور یقین نہیں تھا جو ثابت قدمی پیدا کرتا ہے۔ یہی مؤمن اور منافق کے درمیان فرق ہے:مؤمن اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ اس کے ساتھ ہے اور اسی سے مدد ملتی ہے۔ منافق صرف ظاہری اسباب کو دیکھتا ہے اور لوگوں سے اس قدر ڈرتا ہے جتنا اللہﷻ سے نہیں ڈرتا۔
محاصرہ تقریباً ایک مہینہ جاری رہا۔ کوئی بڑی باقاعدہ جنگ نہ ہوئی، البتہ چند مشرکین خندق کو عبور کر کے اندر آنے میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے مقابلے کی کوشش کی۔
ان مشرکین میں ایک نہایت بہادر اور تجربہ کار شخص تھا: عمرو بن عبد ود۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس لمبی تلوار تھی اور وہ جنگی مہارت میں معروف تھا۔ اس نے خندق پار کر کے مبارزت (دو بدو مقابلہ) طلب کیا۔ اس زمانے میں جنگوں میں مبارزت کا رواج تھا تاکہ ایک شخص کے قتل سے اس کے لشکر کے حوصلے پست ہو جائیں۔
نبی کریم ﷺ نے اس کے مقابلے کے لیے علي بن أبي طالب رضی اللہ عنہ کو بھیجا، جو اس وقت جوان تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے میں اترے، بہادری سے لڑے اور بالآخر اسے قتل کر دیا۔اس غزوہ میں مسلمانوں کا شعار تھا: (حم لا يُنصرون)یعنی یہ مشرکین مدد نہیں پائیں گے۔جب محاصرہ طویل ہو گیا اور مسلمانوں پر تنگی بڑھ گئی تو نبی ﷺ نے حکمتِ عملی کے طور پر قبیلہ غطفان سے صلح کا ارادہ کیا، کیونکہ وہ تعداد میں بڑا حصہ تھے۔ آپ ﷺ نے یہ پیشکش کی کہ وہ مدینہ کے ایک تہائی پھل لے کر واپس چلے جائیں اور قریش و یہود کی مدد نہ کریں۔ غطفان اس پر آمادہ ہو گئے۔
پھر نبی ﷺ نے دو انصاری سرداروں، سعد بن معاذ اور سعد بن عبادة رضی اللہ عنہما سے مشورہ فرمایا۔ان دونوں نے عرض کیا:یا رسول اللہ! کیا یہ فیصلہ آپ نے ہمارے فائدے کے لیے کیا ہے یا اللہ کے حکم سے؟آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، یہ میں نے تمہاری مصلحت کے لیے کیا ہے۔ محاصرہ طویل ہو گیا ہے اور میں چاہتا تھا کہ دشمن کی قوت کم ہو جائے۔
اس پر دونوں سرداروں نے عرض کیا:یا رسول اللہ! جب ہم اور یہ قبائل سب شرک کی حالت میں تھے تب بھی وہ ہم سے ایک کھجور نہیں لے سکتے تھے مگر بطور مہمان نوازی یا خرید و فروخت کے ذریعے۔ اب جبکہ ہم اسلام پر ہیں تو اللہ کی قسم! ہم انہیں ایک کھجور بھی نہیں دیں گے۔ ہم اللہ پر بھروسا کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ کو ان کا یہ عزم اور توکل پسند آیا اور آپ ﷺ نے ان کی رائے کو درست قرار دیا۔
پھر قبیلہ غطفان کے ایک سردار نعيم بن مسعود رضی اللہ عنہ خفیہ طور پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں اسلام قبول کر چکا ہوں، مگر میری قوم کو اس کا علم نہیں۔ میں ابھی تک انہی کے لشکر میں ہوں، آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟
نبی ﷺ نے فرمایا:تم ایک ہی آدمی ہو، جتنا ہو سکے ہماری طرف سے دشمن کو کمزور کرو، کیونکہ جنگ تدبیر (حکمتِ عملی) کا نام ہے۔”
چنانچہ نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ سب سے پہلے یہودیوں کے پاس گئے، کیونکہ ان سے ان کے پرانے تعلقات تھے اور وہ ان کے اسلام سے ناواقف تھے۔ انہوں نے کہا:
اے گروہِ یہود! قریش اور غطفان اگر محمد ﷺ پر غالب آگئے تو وہ اپنے شہروں کو لوٹ جائیں گے اور تمہیں مدینہ میں اکیلا چھوڑ دیں گے۔ اور اگر وہ غالب نہ آئے تو بھی وہ واپس چلے جائیں گے اور تم محمد ﷺ کے مقابلے میں تنہا رہ جاؤ گے۔ لہٰذا تمہیں چاہیے کہ قریش سے کچھ معزز افراد کو بطورِ رہن (یرغمال) اپنے پاس رکھو، تاکہ وہ تمہیں چھوڑ کر نہ جائیں۔
یہودیوں نے اس کی بات قبول کر لی، کیونکہ وہ اس پر اعتماد کرتے تھے۔پھر وہ فوراً قریش کے پاس گئے اور کہا:یہود نے تم سے ساتھ دینے میں کمزوری اختیار کر لی ہے، اور اس کی علامت یہ ہے کہ وہ تم سے رہن مانگیں گے۔ اگر وہ رہن طلب کریں تو ہرگز مت دینا، کیونکہ وہ تمہیں دھوکہ دے سکتے ہیں۔
پھر وہ غطفان کے پاس گئے اور ان سے بھی یہی بات کہی کہ یہود تم سے یرغمال مانگیں گے، لہٰذا ہوشیار رہنا۔ چند ہی دنوں بعد قریش نے یہود سے کہا کہ اب جنگ شروع کرو اور مسلمانوں پر حملہ کرو۔ یہود نے جواب دیا کہ پہلے ہمیں کچھ افراد بطورِ رہن دو، تاکہ ہمیں تمہاری وفاداری کا یقین ہو جائے۔ قریش نے فوراً انکار کر دیا اور سمجھ گئے کہ نعیم بن مسعود نے جو کہا تھا وہ سچ تھا۔ اس طرح یہود نے جنگ میں عملی شرکت سے گریز کیا، اور اس انکار نے قریش اور غطفان کے حوصلے توڑ دیے۔ ان کے درمیان بداعتمادی پیدا ہو گئی اور صفوں میں تفرقہ پڑ گیا۔
اسی دوران اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت آندھی بھیج دی، جس نے ان کے خیمے اکھاڑ دیے، ہانڈیاں الٹ دیں، رسیوں کو توڑ دیا، اور وہ کسی جگہ ٹھہر نہ سکے۔ اس طرح ان کی جمعیت منتشر ہو گئی اور اللہ نے انہیں ناکام و نامراد واپس لوٹا دیا۔
پھر اللہ سبحانه وتعالیٰ نے اس تیز آندھی کے ساتھ اپنے فرشتوں کو بھی بھیجا، جو انہیں ہلا کر رکھ دیتے تھے اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیتے تھے۔ ان کی جماعت منتشر ہو گئی، ان کی صفیں بکھر گئیں، نہ وہ آگ جلا سکتے تھے اور نہ کسی جگہ ٹھہر سکتے تھے۔
اسی دوران، جب یہ مصیبت ان احزاب پر نازل ہو رہی تھی، نبی کریم ﷺ نے حذيفة بن اليمان رضی اللہ عنہ کو بھیجا تاکہ جا کر مشرکین کی خبر لائیں۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جانے کا واقعہ تفصیل طلب ہے، لیکن خلاصہ یہ ہے کہ وہ سخت سرد رات میں دشمن کے لشکر میں جا پہنچے اور انہیں انتہائی بدحالی میں دیکھا۔ وہ واپس آئے تو دیکھا کہ نبی کریم ﷺ سرد رات میں نماز ادا فرما رہے ہیں۔ انہوں نے مشرکین کی حالت بیان کی۔ انہوں نے خود سنا کہ أبو سفيان بن حرب، جو اس وقت مشرکین کا قائد تھا، لوگوں کو واپسی اور فرار کا حکم دے رہا ہے۔ وہ سب سے پہلے اپنی سواری پر سوار ہو کر روانہ ہوا، اور باقی لوگ بھی اس کے پیچھے چل پڑے۔
یوں مشرکین کو شکست ہوئی، اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے آ کر نبی ﷺ کو ان کے انہزام کی خبر دی۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر بڑی جنگ کے ان کے لشکر کو پسپا کر دیا۔
جب نبی کریم ﷺ مدینہ واپس آئے، دشمن کے بھاگ جانے کا اطمینان ہو گیا اور آپ ﷺ نے ہتھیار رکھ دیے، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا: کیا آپ نے ہتھیار رکھ دیے؟ فرشتوں نے ابھی تک ہتھیار نہیں رکھے۔ اب بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوں، کیونکہ انہوں نے عہد شکنی کی ہے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں میں اعلان فرمایا:(جو شخص سننے اور اطاعت کرنے والا ہے، وہ عصر کی نماز بنو قریظہ پہنچ کر ہی ادا کرے۔)جیسا کہ صحیحین میں مذکور ہے.
پس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بنو قریظہ کی طرف روانہ ہو گئے۔
اب ہم سورۂ احزاب کی اُن آیات پر مختصر گفتگو کرتے ہیں جو غزوۂ احزاب کے بارے میں نازل ہوئیں۔ اللہ  فرماتا ہے: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا)اے ایمان والو! اللہ  کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم پر لشکر آئے تو ہم نے ان پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر بھی بھیجے جنہیں تم نے نہیں دیکھا — یعنی فرشتے۔)
پھر فرمایا: (جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ) وہ تمہارے اوپر اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے۔) یعنی قریش مختلف سمتوں سے آئے اور باقی قبائل بھی حملہ آور ہوئے۔
پھر فرمایا: (وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ(آنکھیں خوف سے پتھرا گئیں اور دل حلق تک آ گئے۔) هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا)وہاں مؤمنوں کی آزمائش کی گئی اور انہیں سخت جھٹکا دیا گیا۔یعنی آزمائش ضروری ہے۔ قربانی، صبر اور مشکلات کے بغیر کامیابی کی قیمت ادا نہیں ہوتی۔ نصرت سستی نہیں ملتی، اس کے لیے ابتلا لازم ہے۔
پھر اللہ  نے منافقین کا ذکر فرمایا: (إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا) منافق اور دل کے بیمار لوگ کہنے لگے: اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے محض دھوکہ کا وعدہ کیا ہے۔)اور فرمایا: (وَإِذْ قَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا)
انہوں نے اہلِ مدینہ کو “اے یثرب والو” کہہ کر پکارا — دین کے بجائے شہر کے نام سے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کے دلوں میں ایمان کی جگہ قومیت تھی۔
پھر فرمایا):وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ إِنْ يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا(
کچھ لوگ اجازت مانگنے لگے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالانکہ وہ غیر محفوظ نہ تھے؛ وہ تو صرف بھاگنا چاہتے تھے۔)پھر فرمایا: (وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِمْ مِنْ أَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَآتَوْهَا)
اگر ان پر ہر طرف سے حملہ ہو اور انہیں کفر کی دعوت دی جائے تو فوراً قبول کر لیں گے، کیونکہ ان کے دل میں سچا ایمان نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے انجام کا ذکر کیا: (قُلْ لَنْ يَنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ)فرار تمہیں فائدہ نہیں دے گا، موت سے نہیں بچا سکے گا۔
کیونکہ انسان کی عمر لکھی ہوئی ہے، اور جو کچھ اس کے مقدر میں ہے وہ ضرور جاری ہوتا ہے؛ چاہے وہ ثابت قدم رہے یا بھاگ جائے، باقی رہنے یا فرار ہونے سے تقدیر نہیں بدلتی۔
اور مؤمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا)
یہ مؤمنوں کا حال تھا جب انہوں نے احزاب کو دیکھا — بڑی تعداد اور مکمل تیاری کے ساتھ، جبکہ مسلمان کم تھے، بھوکے تھے، تنگی میں تھے اور سرد راتوں کا سامنا کر رہے تھے — تو انہوں نے کہا: یہ وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ اور اس واقعے نے ان کے ایمان اور فرمانبرداری میں اضافہ ہی کیا۔
یہی سچے ایمان کی نشانی ہے کہ حالات سخت ہوں تو ایمان کم نہ ہو بلکہ اور مضبوط ہو جائے۔
ٹھیک ہے۔
اب ہم چند فوائد حاصل کرتے ہیں:
1/منافقین کی دو قسمیں:ایک وہ جو خود بھاگ جاتا ہے اور کمزور پڑ جاتا ہے۔
دوسرا وہ جو بھاگنے سے پہلے دوسروں کو بھی ڈراتا ہے، مسلمانوں کو واپس جانے کا مشورہ دیتا ہے اور دشمن سے خوف دلاتا ہے تاکہ لوگوں کے دل کمزور ہوں۔
2/مؤمنوں کا صبر اور یقین: جب انہوں نے دشمن کو دیکھا تو کہا: (قالوا هذا ما وعدنا الله ورسوله وصدق الله ورسوله) (یہ وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔) اور اس واقعے نے ان کے ایمان اور اطاعت کو مزید بڑھا دیا۔
3/نبی کریم ﷺ کا مقام: آپ ﷺ یقین والوں کے سردار اور توحید کے امام تھے۔ حالات انتہائی سخت تھے — یہودیوں کی خیانت اور اتحادی لشکروں کا اجتماع — لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے صحابہ کو خوشخبری دی اور فرمایا: (الله أكبر، أبشروا)
اللہ ﷻ سب سے بڑا ہے، خوشخبری ہو — یعنی فتح اور نصرت کی خوشخبری۔
ایک اور فائدہ: ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت قائم و دائم ہے۔ نصرت صرف انبیاء کے ساتھ خاص نہیں اور نہ ہی کسی ایک زمانے تک محدود ہے۔ بلکہ ہر دور میں جب مسلمان نصرت کی شرائط پوری کریں گے تو اللہ تعالیٰ ضرور ان کی مدد فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا) اگر تم صبر اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی چالیں تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔
اور فرمایا: (إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ)اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا. لہٰذا نصرت کی شرط صبر، تقویٰ اور اللہ کے دین کی سچی مدد ہے۔ اور اسی مفہوم میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جب وہ کسی لشکر کو رخصت کر رہے تھے تو فرمایا: (میں تمہیں اس بات سے آگاہ کرتا ہوں کہ لشکر کے گناہ ان کے لیے دشمن سے زیادہ خطرناک ہیں).
لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ دشمن کے مقابلے میں جانے سے پہلے اپنے آپ کا محاسبہ کریں، اور اپنے اور اللہ کے درمیان تعلق کو درست کریں۔ اگر وہ اللہ کے ساتھ اپنا معاملہ درست کر لیں تو دشمن ان کے لیے آسان ہو جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ دشمن کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے اور انہیں اپنی نصرت عطا فرماتا ہے، چاہے وہ کسی بھی طریقے سے ہو — فرشتوں کے ذریعے، ہوا کے ذریعے، یا مسلمانوں کی قوت کے ذریعے۔
اللہ تعالیٰ جب چاہے مشركین کو ذلیل کرے اور مسلمانوں کی مدد کرے، اور اس کے لیے کوئی ایک مخصوص ذریعہ لازم نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے یہ شرط نہیں لگائی کہ مسلمانوں کی تعداد اور ساز و سامان دشمن کے برابر ہو۔ بلکہ فرمایا: (وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ)
اور ان کے مقابلے کے لیے جتنی طاقت تم سے ہو سکے تیار کرو اور گھوڑوں کی تیاری رکھو، تاکہ اس کے ذریعے اللہ کے دشمن اور تمہارے دشمن کو ڈرا سکو۔ یعنی جتنی استطاعت ہو اتنی تیاری کرو۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی مخصوص تعداد لازم نہیں کی، اور نہ یہ شرط رکھی کہ ہر حال میں دشمن کے برابر ہی ہونا ضروری ہے۔
ایک اور فائدہ: مسلمانوں کی مدد اور نصرت ہر اس طریقے سے کرنا واجب ہے جو ان کے لیے فائدہ مند ہو۔
چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی استطاعت کے مطابق مدد کی۔ مثلاً حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے جب نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کو کھانا کھلایا تو جو کچھ ان کے پاس تھا وہ پیش کر دیا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی وسعت کے مطابق خیر کا کام کرے، جتنا اس سے ممکن ہو اتنا ضرور کرے۔
یہی کافی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سب کے لیے توفیق اور درستگی کی دعا کرتے ہیں۔
اے اللہ! اپنے دین کی مدد فرما، اپنے لشکر کو عزت عطا فرما، اور اپنے اولیاء کی نصرت فرما۔
اے اللہ! ہمیں اپنی رضا کے کاموں کی توفیق دے، اپنی نافرمانی سے بچا، اور ہمیں اپنے دین کے مددگاروں میں شامل فرما۔
اے اللہ! محمد ﷺ پر، آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر درود و سلام بھیج۔
اور اللہ تعالیٰ آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

شاركنا بتعليق


واحد × 3 =




بدون تعليقات حتى الآن.