نبی کریم ﷺ کا توحید کی حفاظت کرنا. – سلوک اور ایمانیات-

الأثنين _30 _مارس _2026AH admin
نبی کریم ﷺ کا توحید کی حفاظت کرنا. – سلوک اور ایمانیات-

بلکہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام پر اس وقت بھی نکیر (منع) فرمائی ، جب انہوں نے آپ ﷺ سے یہ مطالبہ کیا ، کہ ان کے لیے بھی ایک خاص درخت مقرر کر دیں جس پر وہ اپنے ہتھیار اور سامان لٹکایا کریں۔
چنانچہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین کی طرف نکلے، اور ہم ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ مشرکین کا ایک بیری کا درخت تھا جس کے گرد وہ ٹھہرتے اور اس پر اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے، اسے (ذاتُ أنواط )کہا جاتا تھا۔ ہم ایک بیری کے درخت کے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک (ذاتُ أنواط )بنا دیجیے جیسے ان کے لیے ایک ذاتُ أنواط ہے۔
تو نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ اکبر! یہ تو ویسا ہی ہے جیسے بنی اسرائیل نے کہا تھا:
﴿اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ﴾ ترجمه: (ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دیجیے جیسے ان کے کئی معبود ہیں)۔ موسیٰ نے کہا: تم یقیناً نادان لوگ ہو۔ (الأعراف: 138)
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: (تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر چلو گے)
پس اگر اس درخت کو ہتھیار لٹکانے اور اس کے گرد ٹھہرنے کے لیے خاص کرنا اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک بنانے کے مشابہ ہے، حالانکہ وہ لوگ اس کی عبادت بھی نہیں کرتے تھے اور نہ ہی اس سے کچھ مانگتے تھے؛ تو پھر اس شخص کا کیا حال ہوگا جو قبر کے پاس ٹھہرے، اس کے پاس دعا کرے یا قبر والے کو پکارے؟
پس درخت کے فتنہ اور قبر کے فتنہ میں کتنا بڑا فرق ہے! کاش کہ شرك اور بدعت کے لوگ اس بات کو سمجھتے۔
امام مالک کے بعض اصحاب میں سے ایک عالم نے کہا:
اللہ ﷻ تم پر رحم کرے! جہاں کہیں بھی تم کوئی بیری یا درخت دیکھو جس کی طرف لوگ قصد کر کے جائیں، اس کی تعظیم کریں، اس سے شفا اور فائدے کی امید رکھیں، اور اس پر کیلیں یا کپڑے وغیرہ باندھیں؛ تو وہ ذاتُ أنواط ہے، لہٰذا اسے کاٹ دو۔ اور جو شخص اس دین کو جانتا ہے جس کے ساتھ اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو مبعوث فرمایا، اور آج کے زمانے میں اہلِ شرك اور اہلِ بدعت کے حالات کو دیکھتا ہے، وہ جان لے گا کہ سلف صالحین اور بعد کے لوگوں کے درمیان فاصلہ مشرق و مغرب کے فاصلے سے بھی زیادہ ہے۔ وہ ایک راستے پر تھے اور یہ لوگ دوسرے راستے پر ہیں۔
جیسا کہ کہا گیا ہے: سَارَتْ مُشَرِّقَةً وَسِرْتَ مُغَرِّبًا = شَتَّانَ بَيْنَ مُشَرِّقٍ وَمُغَرِّبِ
ترجمہ:وہ مشرق کی طرف چلے اور تم مغرب کی طرف چل پڑے؛
مشرق اور مغرب کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے۔
حوالہ: کتاب إغاثة اللهفان في مصايد الشيطان (1/371)۔

شاركنا بتعليق


3 + عشرين =




بدون تعليقات حتى الآن.