ریاض الإيمان : خوف اور امید کے درمیان – پہلا حصہ.

الأثنين _30 _مارس _2026AH admin
ریاض الإيمان : خوف اور امید کے درمیان – پہلا حصہ.

الحمد لله رب العالمين، وبه نستعين، اللهم صلِّ على محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
بھائیو اور بہنو! اس مسئلے میں، یعنی خوف اور امید کے درمیان، بندے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے رب سے ڈرنے والا بھی ہو اور اس کے پاس موجود رحمت کا امیدوار بھی ہو۔ ساتھ ہی وہ خوف اور امید کے ضابطوں کا خیال رکھے۔ کیونکہ بندے کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر خوف زیادہ ہو جائے تو مایوسی اور ناامیدی کا اندیشہ ہوتا ہے، اور اگر خوف کم ہو جائے تو زیادہ آرزوؤں اور حد سے بڑھی ہوئی امید کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ خوف ایک عظیم عبادت ہے اور بندگی کے اعلیٰ درجات میں سے ہے۔ خوف کا ضابطہ یہ ہے کہ جو چیز تمہیں اللہ سبحانه وتعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے روك دے، وہی حقیقی خوف ہے۔
خوف ایک ایسی کیفیت ہے جو دل میں کسی ناپسندیدہ چیز کے پیش آنے کے اندیشے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بندے میں دل کی گھبراہٹ، سکڑاؤ، اضطراب اور دل کی دھڑکن میں شدت پیدا ہوتی ہے۔
خوف کے کچھ دوسرے الفاظ اور مراتب بھی ہیں، جیسے:
خشیت، رہبت اور اجلال۔
ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
-خوف عام مومنوں کے لیے ہے۔
-خشیت علماء کے لیے ہے۔
-رہبت محبت کرنے والوں کے لیے ہے۔
-اجلال اللہ کے مقرب بندوں کے لیے ہے۔
اللہ تعالیٰ نے خوف کے بارے میں فرمایا: ﴿فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ﴾ تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔ اور فرمایا:﴿وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ﴾ اور مجھ ہی سے ڈرو۔
لہٰذا خوف ایک عظیم اور واجب عبادت ہے اور بندگی کے بلند ترین درجات میں سے ہے۔ یہی خوف بندے کو اللہ سبحانه وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے منع کردہ کاموں سے روك دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تم سب سے زیادہ اللہ کو جاننے والا اور تم سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا ہوں۔ اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے سورۃ المؤمنون کی اس آیت کے بارے میں پوچھا:﴿وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَىٰ رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ﴾ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ وہ لوگ ہیں جو زنا کرتے ہیں، چوری کرتے ہیں اور شراب پیتے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، اے ابوبکر کی بیٹی! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور صدقہ کرتے ہیں، اور پھر بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کے اعمال قبول نہ ہوں۔ پس بندہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ کہیں اس کے اعمال قبول نہ ہوں۔
لہٰذا بندے کے لیے ضروری ہے کہ وہ خوف اور امید کے درمیان توازن قائم رکھے۔ کیونکہ آج کل اکثر مسلمانوں کے حال میں خوف کی کمی اور امید کی زیادتی پائی جاتی ہے۔ ان شاء اللہ آگے اس کی مزید تفصیل بیان کی جائے گی۔

شاركنا بتعليق


10 − 9 =




بدون تعليقات حتى الآن.