عقيدوی غلطی

الأثنين _13 _أبريل _2026AH admin
عقيدوی غلطی

قبرستان کے شروع میں میت کو دفن کرنے کی حرص:
فضیلة الشیخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: بعض لوگ جب ان کا کوئی میت مدینہ منورہ کے باہر یا اندر فوت ہو جاتا ہے ، تو وہ اسے جنت البقیع میں دفن کرنے کی حرص کرتے ہیں، اور خاص طور پر یہ چاہتے ہیں کہ اسے قبرستان کے شروع (آگے والے حصے) میں دفن کیا جائے۔ شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آگے کا حصہ پچھلے حصے سے بہتر ہے۔ اس کا کیا حکم ہے؟
تو شیخ رحمہ اللہ تعالى نے جواب دیا: اگر میت مدینہ کے قریب ہو تو اسے بقیع میں لانا اچھا اور بہتر ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے دعا فرمائی: (اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ) (اے اللہ! بقیع غرقد والوں کی مغفرت فرما)۔
لیکن اگر میت دور ہو تو اسے وہاں لانا ضروری نہیں۔
رہا یہ کہ قبرستان کے شروع میں دفن کرنے کو افضل سمجھا جائے، تو اس کی کوئی اصل نہیں ہے، کیونکہ قبرستان کا پہلا حصہ اور آخری حصہ سب برابر ہیں۔
حوالہ: مجموع فتاویٰ و رسائل العثیمین (17/446).

شاركنا بتعليق


ستة − 1 =




بدون تعليقات حتى الآن.