شیطان کی چالیں ابنِ آدم کے خلاف جلد 16 : (سلوك اور ایمانیات)

الجمعة _15 _مايو _2026AH admin
شیطان کی چالیں ابنِ آدم کے خلاف جلد 16 : (سلوك اور ایمانیات)

امام ابن القيم الجوزية رحمہ اللہ تعالى فرماتے ہیں: شیطان کی سب سے بڑی چالوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے لوگوں کے لیے “انصاب” اور “ازلام” قائم کیے، جو اس کے اعمال میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے بچنے کا حکم دیا ہے اور کامیابی کو انہی سے اجتناب کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ چنانچہ فرمایا: ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ)
— سورة المائدة آیت: 90 –
ترجمه : اے ایمان والو! بے شک شراب، جوا، بت (نصب کیے گئے معبود)، اور فال نکالنے کے تیر (ازلام) یہ سب ناپاک ہیں اور شیطان کے کاموں میں سے ہیں، لہٰذا ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
-انصاب – سے مراد ہر وہ چیز ہے جسے اللہ کے سوا عبادت کے لیے نصب کیا جائے، جیسے: پتھر، درخت، بت، قبر وغیرہ۔
اور- ازلام – سے مراد وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے غیب معلوم کرنے یا قسمت کا حال جاننے کی کوشش کی جاتی تھی۔
مطلب یہ ہے کہ لوگ انصاب اور ازلام کے ذریعے آزمائش میں پڑ گئے:
انصاب : شرک اور عبادت کے لیے
ازلام : غیب دانی اور پیش گوئی کے لیے
اللہ ﷻ کا دین ان دونوں کے خلاف ہے، اور محمد صلى الله عليه وسلم جو دین لے کر آئے، اس میں ان سب چیزوں کو ختم کرنا اور مٹانا شامل ہے۔
شیطان نے مشرکین کے لیے مختلف شکلوں میں انصاب قائم کیے، جیسے درخت، ستون، بت، قبریں یا لکڑی وغیرہ۔ لہٰذا ان سب کو ختم کرنا اور ان کے آثار مٹا دینا واجب ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے علي بن أبي طالب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ:
(کوئی مجسمہ ایسا نہ چھوڑو جسے مٹا نہ دو، اور کوئی اونچی قبر نہ چھوڑو مگر اسے برابر کر دو) یہ حدیث صحيح مسلم میں أبو الهياج الأسدي کے ذریعے مروی ہے۔
أبو الهياج الأسدي کہتے ہیں: حضرت علي بن أبي طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: (کیا میں تمہیں اس کام پر نہ بھیجوں جس پر مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا؟ وہ یہ کہ میں کوئی بھی مجسمہ باقی نہ چھوڑوں مگر اسے مٹا دوں، اور کوئی اونچی قبر نہ چھوڑوں مگر اسے زمین کے برابر کر دوں).

شاركنا بتعليق


2 × 4 =




بدون تعليقات حتى الآن.