ابن آدم کے خلاف شیطان کے مکر و فریب (جلد 17)

السبت _6 _يونيو _2026AH admin
ابن آدم کے خلاف شیطان کے مکر و فریب (جلد 17)

– سلوک اور ایمانیات
ابن القیم رحمہ اللہ تعالى فرماتے ہیں: ( شیطان کے بڑے مکر و فریب میں سے ایک یہ ہے کہ وہ مشرکوں کے لیے کسی قبر کو بہت بڑا اور معزز بنا دیتا ہے، پھر لوگوں کے دلوں میں اس کی تعظیم ڈال دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے بت (معبود) بنا لیتے ہیں اور اللہ ﷻ کے سوا اس کی عبادت شروع کر دیتے ہیں۔ پھر شیطان اپنے اولیاء (پیروکاروں) کے دلوں میں یہ بات ڈالتا ہے کہ جو شخص اس قبر کی عبادت سے روکے یا اسے عید گاہ بنانے اور بت بنانے سے منع کرے، وہ اس کی توہین کرتا ہے اور اس کے حق کو کم کرتا ہے۔
اس کے نتیجے میں جاہل مشرك لوگ ایسے موحد (توحید پرست) لوگوں کے قتل اور سزا کے درپے ہو جاتے ہیں اور انہیں کافر قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ ان کا (گناہ) صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ ﷻ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق لوگوں کو شرك سے روکتے ہیں، اور اس بات سے منع کرتے ہیں کہ قبروں کو بت بنایا جائے، ان پر چراغ جلائے جائیں، ان پر مساجد اور قبے بنائے جائیں، انہیں پختہ کیا جائے، ان کو بوسہ دیا جائے، ان کو چھوا جائے، ان سے دعا کی جائے یا ان کے وسیلے سے دعا کی جائے، یا ان کے پاس سفر کیا جائے، یا ان سے مدد طلب کی جائے۔یہ تمام اعمال اسلام کے دین کے خلاف ہیں، اور دینِ اسلام کا بنیادی مقصد توحید کو خالص کرنا ہے، یعنی صرف اللہ کی عبادت کرنا۔ جب کوئی موحد ان کاموں سے روکتا ہے تو مشرک لوگ اس پر غصہ کرتے ہیں، ان کے دل تنگ ہو جاتے ہیں، اور وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ (بزرگوں کی بے ادبی) کرتے ہیں اور ان کی قدر نہیں کرتے۔
یہ بات جاہلوں اور بعض ایسے لوگوں کے دلوں میں بھی سرایت کر جاتی ہے جو خود کو علم و دین کی طرف منسوب کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اہلِ توحید سے دشمنی کرنے لگتے ہیں، ان پر بڑے بڑے الزامات لگاتے ہیں، اور لوگوں کو ان سے دور کرتے ہیں، جبکہ مشرکوں کی عزت کرتے ہیں اور انہیں اللہ ﷻ کے اولیاء اور دین کے مددگار سمجھتے ہیں۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سبحانه وتعالیٰ اس بات سے پاک ہے۔ اللہ ﷻ کے حقیقی اولیاء وہی ہیں جو متقی ہیں، اس کی اطاعت کرنے والے ہیں، اس کے دین کی پیروی کرتے ہیں، اس کے رسول ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کو جانتے اور ان پر عمل کرتے ہیں، اور لوگوں کو اسی کی طرف بلاتے ہیں- نہ کہ وہ لوگ جو جھوٹے دعوے کرتے ہیں، جھوٹی شان و شوکت اختیار کرتے ہیں، جھوٹے لباس پہن کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں، لوگوں کو سنتِ نبوی سے روکتے ہیں اور انہیں سیدھے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔
حواله (اغاثة اللهفان في مصايد الشيطان، 1/384).

شاركنا بتعليق


1 + أربعة عشر =




بدون تعليقات حتى الآن.