سلوک اور ایمانیات

الخميس _25 _يونيو _2026AH admin
سلوک اور ایمانیات

اور اے وہ شخص جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے سیدھے راستے کی پیروی کی نعمت فرمائی ہے، یعنی اُن لوگوں کے راستے کی جن پر اُس کی نعمت، رحمت اور کرامت ہوئی، ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ قبروں کو بت، عیدگاہ اور عبادت کی جگہ بنانے سے منع کرنا، اُنہیں مسجد بنانے سے روکنا، اُن پر مساجد تعمیر کرنے سے منع کرنا، اُن پر چراغ روشن کرنے، اُن کی طرف سفر کرنے، اُن کے نام کی نذر ماننے، اُنہیں ہاتھ لگانے، چومنے، اور اُن کے آستانوں پر پیشانیاں رگڑنے سے روکنا، اُن قبروں والوں کی توہین یا اُن کی شان میں گستاخی ہے، جیسا کہ اہلِ شرك و ضلالت سمجھتے ہیں۔
بلکہ حقیقت یہ ہے :کہ یہی ان کی عزت، تعظیم، احترام اور اُن کی صحیح پیروی ہے،کیونکہ اس میں اُن امور کی اتباع ہے جنہیں وہ پسند کرتے تھے، اور اُن کاموں سے اجتناب ہے جنہیں وہ ناپسند کرتے تھے۔ پس اللہ ﷻ کی قسم! تم ہی درحقیقت اُن کے دوست، اُن سے محبت کرنے والے، اُن کے طریقے اور سنت کے مددگار، اور اُن کے ہدایت یافتہ منہج پر چلنے والے ہو۔ جبکہ یہ مشرك لوگ اُن کے سب سے زیادہ نافرمان، اُن کی ہدایت اور پیروی سے سب سے زیادہ دور ہیں، جیسے نصاریٰ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ معاملہ، یہود کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ، اور رافضیوں کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہے۔
پس اہلِ حق، اہلِ باطل کی نسبت اہلِ حق کے زیادہ حق دار ہوتے ہیں۔ اللہ سبحانه وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ﴾ سورة التوبہ: (71)
ترجمه : (اور مومن مرد اور مومن عورتیں، ایك دوسرے کے مددگار اور دوست ہیں۔ (
اور فرمایا:﴿وَالْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ﴾ (التوبہ: (67)
ترجمه : (اور منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے ہی میں سے ہیں۔)
لہٰذا : جان لو کہ جب دل بدعات میں مشغول ہو جاتے ہیں تو سنتوں سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ چنانچہ تم دیکھو گے کہ قبروں پر اعتکاف اور چکر لگانے والوں کی اکثریت اُن بزرگوں کے طریقے، ہدایت اور سنت سے اعراض کرنے والی ہوتی ہے، اور اُن کی قبروں میں اس قدر مشغول ہوتی ہے کہ اُن تعلیمات سے غافل ہو جاتی ہے جن کا اُن بزرگوں نے حکم دیا اور جن کی طرف دعوت دی تھی۔
اور انبیاء و صالحین کی حقیقی تعظیم اور اُن سے سچی محبت یہی ہے کہ اُن کی دعوت کردہ نافع علم اور نیك عمل کی پیروی کی جائے، اُن کے آثار کی اقتدا کی جائے، اور اُن کے طریقے پر چلا جائے، نہ یہ کہ اُن کی قبروں کی عبادت کی جائے، اُن پر مجاور بن کر بیٹھا جائے، اور اُنہیں عیدگاہ بنا لیا جائے۔ حواله : إغاثة اللهفان في مصايد الشيطان، 1/385، ط: عطاءات العلم.

شاركنا بتعليق


ثلاثة عشر − 9 =




بدون تعليقات حتى الآن.