امیر کے لیے نیك اور صالح مشیروں کی اہمیت

الخميس _25 _يونيو _2026AH admin
امیر کے لیے نیك اور صالح مشیروں کی اہمیت

سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالى بیان کرتے ہیں کہ جب سلیمان بن عبدالملك خلیفہ بنے تو انہوں نے عمر بن عبدالعزیز رحمه الله تعالى سے کہا:
( اے ابو حفص ! تم دیکھ رہے ہو کہ ہم اس منصب کے ذمہ دار بنائے گئے ہیں، حالانکہ اس کے انتظام و تدبیر کا ہمیں کوئی تجربہ نہ تھا۔ لہٰذا تم عوام کی بھلائی اور مصلحت کی جو بات مناسب سمجھو، ہمیں اس کا حکم دو)
چنانچہ عمر بن عبدالعزیز کی رائے سے حجاج کے مقرر کردہ عاملوں کو معزول کیا گیا، نمازوں کو اُن کے مقررہ اوقات میں ادا کیا جانے لگا، جبکہ اس سے پہلے انہیں اُن کے وقت سے مؤخر کر دیا جاتا تھا، اور اس کے علاوہ بھی بہت سے اہم امور میں سلیمان، عمر بن عبدالعزیز سے مشورہ لیتے اور اُن کی بات قبول کرتے تھے۔ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سلیمان نے حج کیا۔ جب انہوں نے میدانِ عرفات میں لوگوں کا عظیم مجمع دیکھا تو عمر بن عبدالعزیز سے کہا : -کیا تم اس مخلوق کو نہیں دیکھتے، جن کی تعداد اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شمار نہیں کر سکتا ؟
عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا : یہ لوگ آج تمہاری رعیت ہیں، لیکن کل قیامت کے دن یہی تمہارے مدِّمقابل اور تم سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والے ہوں گے۔”
یہ سن کر سلیمان بن عبدالملک بہت شدت سے رونے لگے۔
امام ذہبی رحمہ اللہ تعالى فرماتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز، سلیمان کے لیے سچے اور خیر خواہ وزیر تھے۔ پھر سلیمان دابق میں ایک ہفتہ بیمار رہے اور وہیں وفات پا گئے، جبکہ اُن کے بیٹے داؤد، قسطنطنیہ کی مہم میں شریک ہونے کی وجہ سے وہاں موجود نہ تھے۔ حواله (سیر أعلام النبلاء، 5/125)

شاركنا بتعليق


سبعة عشر − 14 =




بدون تعليقات حتى الآن.