حالتِ سجدہ: اللہ سبحانه وتعالیٰ کے قرب کا راز اور اس کی عظیم فضیلت

الثلاثاء _21 _يوليو _2026AH admin
حالتِ سجدہ: اللہ سبحانه وتعالیٰ کے قرب کا راز اور اس کی عظیم فضیلت

الحمد للہ، والصلاة والسلام على رسول اللہ ﷺ۔ سجدہ بندے کی زندگی کی وہ عظیم عبادت ہے جس میں وہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن و سنت میں سجدے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
اللہ سبحانه وتعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيلًا﴾ ترجمه : (اور رات کے کچھ حصے میں اس کے لیے سجدہ کرو اور رات کے طویل وقت تک اس کی تسبیح بیان کرو) اور فرمایا: ﴿وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ﴾ ترجمه :-سجدہ کرو اور (اپنے رب کا) قرب حاصل کرو) نیز فرمایا: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ ۝ وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ﴾ ترجمه : (وہی ہے جو آپ کو دیکھتا ہے جب آپ کھڑے ہوتے ہیں، اور سجدہ کرنے والوں میں آپ کی آمد و رفت کو بھی دیکھتا ہے)
اور فرمایا:﴿سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ﴾ ترجمه : (ان کی نشانی ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے نمایاں ہے۔”
نماز کے تمام ارکان میں سجدے کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اس کی کئی حکمتیں ہیں:
-کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ) : بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہو۔ لہٰذا اس عظیم قرب کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے۔
-اللہ سبحانه وتعالیٰ نے جہنم کی آگ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ ابنِ آدم کے سجدہ کرنے والے اعضاء کو کھائے۔
-سجدہ کرنے والا اپنے جسم کے سب سے معزز حصے، یعنی اپنے چہرے کو اپنے رب کے سامنے خاک پر رکھ دیتا ہے، جو کامل عاجزی اور بندگی کی علامت ہے۔
-سجدے کی ظاہری کیفیت بندے کی فروتنی، انکساری، محتاجی، کمزوری، بے بسی، کامل اطاعت اور اللہ سبحانه وتعالیٰ کے سامنے سراپا سپردگی کی تصویر پیش کرتی ہے۔
لہٰذا ہر سجدہ کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اس ظاہری کیفیت کو اپنے دل کی حقیقی کیفیت بھی بنا لے۔ وہ اپنے دل میں اللہ سبحانه وتعالیٰ کی عظمت، جلال، لطف، رحمت اور اپنے بندے پر اس کی محبت کو تازہ کرے، کیونکہ بندہ اپنے رب کے حضور جس دروازے سے سب سے زیادہ قبولیت پاتا ہے، وہ عاجزی، انکساری، فروتنی اور کامل بندگی کا دروازہ ہے۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے اپنے خادم ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:(مانگو، کیا مانگتے ہو؟)
انہوں نے عرض کیا: (میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں) آپ ﷺ نے فرمایا: (اس کے علاوہ کچھ اور؟)
انہوں نے عرض کیا: (مجھے یہی مطلوب ہے۔) تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (پھر اپنے لیے کثرتِ سجدہ کے ذریعے میری مدد کرو۔)
امام ابن قیم رحمہ اللہ تعالى فرماتے ہیں:(سجدہ نماز کا راز، اس کا سب سے بڑا رکن اور ایک رکعت کا اختتامی حصہ ہے، جبکہ اس سے پہلے کے تمام ارکان گویا سجدے کی تمہید ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: (رکوع میں اپنے رب کی عظمت بیان کرو، اور سجدے میں خوب دعائیں کیا کرو، کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں دعا کی قبولیت کی زیادہ امید ہوتی ہے).
حقیقت یہ ہے کہ اگر بندہ سجدے کی حالت میں اپنے رب کے قرب کو دل سے محسوس کر لے تو وہ اپنے سجدے کی بہت زیادہ حفاظت کرے، اپنے دل کو حاضر رکھے اور اپنے رب سے طویل دعائیں کرے۔
سوچئے! اگر دنیا کا کوئی بااختیار شخص ہم سے کہے: (میرے قریب آؤ، اپنی تمام ضرورتیں بیان کرو، میں تمہاری ہر خواہش پوری کروں گا) تو ہمارے دل اپنی شکایتیں بیان کرنے کے لیے بے قرار ہو جائیں، آنکھیں آنسوؤں سے بھر جائیں اور انسان امیدوں کے ساتھ اس کے پاس دوڑا چلا جائے۔ پھر افسوس! ہم سجدے کی اس عظیم حالت سے کیسے غافل ہو جاتے ہیں، جبکہ اس وقت ہم اس ذات کے سب سے زیادہ قریب ہوتے ہیں جس کے ہاتھ میں جنت و جہنم ہے، دنیا و آخرت کی بھلائی ہے، اور ہمارے ہر حال کی اصلاح اسی کے اختیار میں ہے۔
اللہ ﷻ کی قسم! اگر ایک سجدے میں رحمن کی محبت اور اس کے قرب کا یقین دل میں اتر جائے تو بکھرا ہوا دل نورِ ایمان سے جگمگا اٹھے، خشوع اور انکسار سے بھر جائے، اور آنکھوں سے بہنے والے آنسو روح کی خشکی کو سیراب کر دیں، یہاں تک کہ مردہ دل پھر سے زندہ ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں خشوع و خضوع، اخلاص اور کثرتِ سجدہ کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے سجدوں کو اپنی رضا، قرب اور دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

شاركنا بتعليق


ثلاثة × أربعة =




بدون تعليقات حتى الآن.