مصیبت آنے پر بے صبری اور اللہ ﷻ کی تقدیر پر ناراضی کا اظہار کرنا غلط ہے

السبت _8 _أغسطس _2026AH admin
مصیبت آنے پر بے صبری اور اللہ ﷻ کی تقدیر پر ناراضی کا اظہار کرنا غلط ہے

عقیدے کی غلطیاں:
فضیلة الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ تعالى سے پوچھا گیا:
جو شخص مصیبت آنے پر اللہ ﷻ کی تقدیر پر ناراضی اور بے زاری کا اظہار کرے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
آپ رحمہ اللہ تعالى نے جواب دیا: مصیبت کے وقت لوگوں کے چار درجے ہوتے ہیں:
پہلا درجہ: ناراضی اور بے زاری (تسخّط) یہ بھی کئی صورتوں میں ہوتا ہے:
پہلی صورت : دل سے ناراض ہونا، یعنی انسان اپنے رب کی تقدیر پر دل میں غصہ اور ناراضی محسوس کرے، اور اللہ سبحانه وتعالیٰ کے فیصلے پر ناخوش ہو۔ یہ حرام ہے، بلکہ بعض اوقات انسان کو کفر تک پہنچا سکتا ہے۔ اللہ سبحانه وتعالیٰ کا فرمان ہے: (وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللهَ عَلَى حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انْقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالأَْخِرَةَ ذالِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ) سورۂ الحج: (11). – ترجمه : اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ ﷻ کی عبادت کنارے پر رہ کر کرتا ہے؛ اگر اسے کوئی بھلائی پہنچے تو اس سے مطمئن ہو جاتا ہے، اور اگر اسے کوئی آزمائش آ پہنچے تو اپنے منہ کے بل پھر جاتا ہے۔ اس نے دنیا اور آخرت دونوں کا نقصان اٹھایا، یہی کھلا خسارہ ہے۔)
دوسری صورت: زبان سے ناراضی کا اظہار کرنا، جیسے ہائے ہلاکت! ہائے بربادی! یا اس قسم کے دوسرے الفاظ کہنا۔ یہ بھی حرام ہے۔
تیسری صورت: اعضاء کے ذریعے ناراضی ظاہر کرنا، جیسے رخسار پیٹنا، گریبان چاک کرنا، بال نوچنا یا اس جیسے دوسرے کام کرنا۔ یہ سب حرام ہیں اور واجب صبر کے منافی ہیں۔
دوسرا درجہ: صبر
جیسا کہ شاعر نے کہا ہے: (والصبر مثل اسمه مر مذاقته = لكن عواقبه أحلى من العسل )
صبر اپنے نام کی طرح ذائقے میں کڑوا ہوتا ہے = لیکن اس کا انجام شہد سے بھی زیادہ میٹھا ہوتا ہے۔
یعنی انسان مصیبت کو اپنے لیے بھاری محسوس کرتا ہے، لیکن ایمان کی قوت سے اسے برداشت کرتا ہے۔ وہ اس مصیبت کے آنے کو پسند نہیں کرتا، مگر اس کا ایمان اسے اللہ ﷻ کی تقدیر پر ناراضی سے بچا لیتا ہے۔ اس کے نزدیک مصیبت کا آنا اور نہ آنا برابر نہیں ہوتا، لیکن وہ صبر کرتا ہے۔
یہ درجہ واجب ہے، کیونکہ اللہ ﷻ نے صبر کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: (وَأَطِيعُواْ اللهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُواْ إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِينَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُو?اْ إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِينَ) سورۂ الأنفال: (46)
ترجمه: اللہ ﷻ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو، آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، اور صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔).
تیسرا درجہ: رضا: یعنی انسان مصیبت پر اس طرح راضی ہو جائے کہ اس کے نزدیک مصیبت کا آنا یا نہ آنا برابر ہو جائے۔ اسے مصیبت کا وجود گراں نہ گزرے اور نہ ہی وہ اسے بوجھ سمجھ کر برداشت کرے۔ راجح قول کے مطابق یہ درجہ مستحب ہے، واجب نہیں۔
صبر اور رضا میں فرق یہ ہے : کہ صبر کرنے والے پر مصیبت گراں گزرتی ہے، مگر وہ برداشت کرتا ہے، جبکہ راضی رہنے والے کے نزدیک مصیبت کا آنا اور نہ آنا یکساں ہوتا ہے۔
چوتھا درجہ: شکر : یہ سب سے بلند درجہ ہے۔
یعنی انسان مصیبت آنے پر بھی اللہ ﷻ کا شکر ادا کرے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ مصیبت اس کے گناہوں کا کفارہ بن رہی ہے، بلکہ ممکن ہے اس کے درجات بلند ہونے کا سبب بھی بن جائے۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: (ما يصيب المسلم من نصبٍ ولا وصبٍ، ولا همٍّ ولا حَزَن، ولا أذى، ولا غمٍّ، حتى الشوكة يشاكها، إلا كفَّر الله بها من خطاياه)
ترجمه : مسلمان کو جو بھی تھکن، بیماری، فکر، غم، تکلیف یا پریشانی پہنچتی ہے، یہاں تک کہ اگر اسے کانٹا بھی چبھ جائے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ ) حوالہ: مجموع فتاوى ورسائل الشيخ ابن عثيمين (17/467)

شاركنا بتعليق


18 − 9 =




بدون تعليقات حتى الآن.