اسباب پر حد سے زیادہ بھروسہ: مسئلہ اور اس کا حل تقویٰ میں

السبت _8 _أغسطس _2026AH admin
اسباب پر حد سے زیادہ بھروسہ: مسئلہ اور اس کا حل تقویٰ میں

الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله ﷺ۔
اس دنیا کی پریشانیوں اور مشکلات کے درمیان انسان مسلسل اسباب کے پیچھے دوڑتا رہتا ہے۔ وہ اپنی مشکلات کے حل، رزق کے حصول اور اپنے معاملات کی اصلاح کے لیے مختلف ذرائع اختیار کرتا ہے۔ اسباب اختیار کرنا شریعت کا تقاضا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اسباب کے بارے میں اسلام کا صحیح عقیدہ اور رویہ کیا ہے، تاکہ اللہ ﷻ پر حقیقی توکل حاصل ہو سکے۔
اللہ سبحانه وتعالیٰ پر توکل کے تین بنیادی ارکان ہیں:
1/انسان اپنے اعضاء کے ذریعے مشروع اسباب اختیار کرے۔
2/اپنے دل کا اعتماد صرف اللہ تعالیٰ پر رکھے۔
3/اپنے دل کو اسباب کے سہارے سے آزاد رکھے، اس طرح کہ اس کا اطمینان اور بھروسہ اللہ ﷻ کی قضا و قدر اور اس کی بہترین تدبیر پر ہو۔
بندہ یہ یقین رکھے کہ جو اسباب وہ اختیار کرتا ہے، وہ محض اسباب ہیں؛ وہ فائدہ بھی دے سکتے ہیں، نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں، اور ممکن ہے نہ فائدہ دیں نہ نقصان۔ کیونکہ حقیقی اختیار صرف اللہ ﷻ کے ہاتھ میں ہے۔ جو وہ چاہے وہی ہوتا ہے، اور جو نہ چاہے وہ کبھی نہیں ہو سکتا۔
ہمارے بڑے مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ ہم اسباب ہی سے دل لگا لیتے ہیں، ان کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں اور مسبب الاسباب سے غافل ہو جاتے ہیں۔ ہم رزق سے تعلق جوڑ لیتے ہیں مگر رازق کو بھول جاتے ہیں، نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں مگر منعم کو فراموش کر دیتے ہیں، مخلوق پر اعتماد کرتے ہیں مگر خالق سے تعلق کمزور کر لیتے ہیں۔ یہی کیفیت ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کے بہت سے معاملات میں پائی جاتی ہے۔
اسباب سے حد سے زیادہ وابستگی بندے کے دین اور اس کے دل دونوں کے لیے بہت بڑا نقصان ہے، کیونکہ اس سے دنیا دل میں گھر کر لیتی ہے اور آخرت کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ۝ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى﴾
ترجمه : بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔”
اسباب سے غیر معمولی تعلق انسان کو اللہ ﷻ سے دور کر دیتا ہے، اور جب بندہ اپنے رب سے دور ہو جاتا ہے تو شیاطین اسے گھیر لیتے ہیں، نفس اس پر غالب آ جاتا ہے اور فتنے ہر طرف سے اس کا احاطہ کر لیتے ہیں۔ پھر اس کے دل میں غفلت آ جاتی ہے، ایمان کمزور ہو جاتا ہے، اللہ ﷻ سے امید اور خوف میں توازن ختم ہونے لگتا ہے، اور وہ ٹھنڈے دل کے ساتھ گناہوں پر اصرار کرنے لگتا ہے؛ کیونکہ اس نے اپنی روح کی اصل غذا، یعنی اللہ ﷻ کا خوف، تقویٰ، محبت، اور قلبی سکون و اطمینان کھو دیا ہوتا ہے۔
جب بندہ اسباب ہی پر بھروسہ کرنے لگتا ہے تو مخلوق کا خوف اس کے دل میں بڑھ جاتا ہے، وہ ان کی طاقت اور ترقی سے مرعوب ہو جاتا ہے اور ان کی دنیاوی چمک دمک اسے دھوکا دینے لگتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: (جس نے اپنی تمام فکروں کو ایک ہی فکر، یعنی آخرت کی فکر بنا لیا، اللہ ﷻ اس کی دنیا کی تمام پریشانیاں دور فرما دیتا ہے۔ اور جس کی فکریں مختلف سمتوں میں بکھر گئیں، اللہ سبحانه وتعالیٰ کو اس کی کوئی پروا نہیں رہتی کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہوتا ہے۔ حدیث حسن ہے.
اہم سوال: اسباب پر ضرورت سے زیادہ اعتماد، ان پر دل لگا لینے اور دنیا کی محبت کو دل سے کیسے نکالا جائے؟
جواب: اس کا علاج تقویٰ اختیار کرنے میں ہے؛ یعنی اللہ ﷻ کے احکام کی تعظیم کرنا، ان پر عمل کرنا اور اس کی نافرمانی سے بچنا۔
جب بندہ اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرتا ہے اور پوری توجہ کے ساتھ اللہ ﷻ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ سبحانه وتعالیٰ بھی اپنی حفاظت، نصرت اور خصوصی عنایت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اور اس کا دل اپنی محبت سے وابستہ کر دیتا ہے۔
تقویٰ کے نتیجے میں اللہ سبحانه وتعالیٰ بندے کے دل کو یقین سے بھر دیتا ہے، اور یقین ایمان کی بنیاد اور اس کا مضبوط ستون ہے۔ جب دل یقین سے آباد ہو جاتا ہے تو وہ نور سے منور اور روحانی زندگی سے سرشار ہو جاتا ہے۔ پھر بندے کی فکر، اس کی تمام حرکات و سکنات، اس کی بیداری اور اس کی نیند، سب اللہ سبحانه وتعالیٰ کی رضا کے لیے ہو جاتی ہیں۔
اس کے بعد اللہ سبحانه وتعالیٰ اس کے دل سے دنیا کی بے جا محبت نکال دیتا ہے، مخلوق کی ہیبت اس کی نگاہ میں کم کر دیتا ہے، اس کے دل میں سکون، رضا، دین کی غیرت اور اطمینان نازل فرما دیتا ہے۔ یوں وہ اللہ ﷻ کی ولایت، مدد اور توفیق کے سائے میں زندگی گزارتا ہے۔
﴿وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ﴾ اور مجھے جو بھی توفیق حاصل ہے، وہ صرف اللہ ﷻ ہی کی طرف سے ہے۔

شاركنا بتعليق


ثمانية − 8 =




بدون تعليقات حتى الآن.