انسان کی شیطان سے غفلت

الأحد _30 _أغسطس _2026AH admin
انسان کی شیطان سے غفلت

شیطان سے خبردار کرنا، اس کی چالوں کو بیان کرنا اور اللہ سبحانه وتعالیٰ سے مضبوط تعلق اور اس کے ذکر کے ذریعے اس سے نجات کے راستے واضح کرنا۔
الحمد لله اللهم صل على رسول الله، تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، اے اللہ! رسول اللہ ﷺ پر رحمتیں نازل فرما۔ ہر مسلمان یہ جانتا ہے کہ شیطان انسان کی گھات میں لگا ہوا ہے۔ وہ اسے فتنے میں مبتلا کرنا چاہتا ہے، اس کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے، اسے گمراہ کرتا ہے اور ہر برائی کی طرف اسے اکساتا ہے۔ شیطان نے کہا:
﴿فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ۝ ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ﴾
ترجمه : پس تیری عزت کی قسم! میں ضرور ان سب کو گمراہ کروں گا۔ پھر میں ان کے آگے سے، ان کے پیچھے سے، ان کی دائیں طرف سے اور ان کی بائیں طرف سے ان کے پاس آؤں گا، اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا ).
بے شك اس ملعون نے ہمیں گمراہ کرنے اور اللہ سبحانه وتعالیٰ کے سیدھے راستے سے روکنے کے لیے خود کو وقف کر رکھا ہے۔ اللہ سبحانه و تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا : کہ یہ دنیا آزمائش اور امتحان کی جگہ ہو، اور شیطان کے ذریعے انسان کو آزمایا جائے ،کیونکہ شیطان انسان کے نفس کو اذیت دیتا ہے، اسے برائی کی طرف دھکیلتا ہے اور مختلف قسم کی مکاریوں اور حیلوں کے ذریعے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔
چنانچہ نفس اپنے مالك کو خواہشات، دنیا کے فتنوں، شرك، بدعات اور گمراہیوں کے پیچھے چلنے کی دعوت دیتا ہے، تاکہ انسان اور شیطان کے درمیان، نیز انسان اور اس کے اپنے نفس کے درمیان کشمکش قائم رہے؛ کیونکہ نفس اسے ہر راستے سے برائی کی طرف بلاتا ہے۔
پس جو شخص شیطان کی اطاعت کرے وہ گمراہ ہوگیا، اور جو اس کی نافرمانی کرے، اس کی چالوں کو پہچانے اور اس سے بچنے کی کوشش کرے، وہ ہدایت یافتہ اور سیدھا راستہ اختیار کرنے والا ہے ، اور اس سے محفوظ رہنے کے لیے اس کے سامنے مضبوط رکاوٹ قائم کرلیتا ہے۔
کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ ایسا نہیں جو شیطان کی ترغیب اور نفس کو اس کی طرف مائل کرنے سے نہ ہو، اور کوئی نیکی ایسی نہیں مگر وہ اللہ سبحانه وتعالیٰ کی طرف سے اور اسی کی توفیق سے ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ وَقَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ)
صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ کے ساتھ بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میرے ساتھ بھی، مگر اللہ سبحانه وتعالى نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی، تو وہ مسلمان ہوگیا۔ رواہ مسلم
یعنی نبی ﷺ کا جنّی ساتھی مسلمان ہوگیا۔ جس طرح اللہ سبحانه وتعالیٰ اپنی حکمت کے تحت ہر انسان کے ساتھ ایك کافر جنّی ساتھی مقرر فرماتا ہے جو اسے گمراہ کرتا، وسوسے ڈالتا اور اس کے دین کے بارے میں اسے شك میں مبتلا کرتا ہے، اسی طرح اللہ سبحانه وتعالیٰ کی رحمت سے ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ بھی مقرر ہوتا ہے جو اسے درست راستہ دکھاتا اور خیر کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
اے عزیزو ! ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ شیطان نے ابنِ آدم کے تمام راستوں پر گھات لگا رکھی ہے۔ چنانچہ اس نے اسلام، ہجرت اور جہاد کے راستے میں بھی انسان کی گھات لگائی، اور ہر نیکی کے راستے پر بھی اس لیے بیٹھا ہے کہ اسے گمراہی کے راستے پر لے جائے، جہاں خواہشات، شبہات، شکوک، وسوسے اور دل میں آنے والے برے خیالات ہیں۔
اسی طرح وہ مسلمانوں کے درمیان فساد اور باہمی لڑائی پیدا کرنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ﴾ – ترجمه : اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ وہی بات کہیں جو سب سے اچھی ہو؛ بے شک شیطان ان کے درمیان فساد ڈالتا ہے ).
لہٰذا اے میرے بھائی ! ہوشیار رہو ، اور اپنے دشمن سے بچ کر رہو۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم شیطان کی چالوں اور اس کے مکر کو پہچانیں، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے : کہ ہم اسے اپنا دشمن سمجھیں، اس کی اطاعت نہ کریں، اس بات سے محتاط رہیں کہ وہ ہمیں اپنے حیلوں سے دھوکا نہ دے، بلکہ اس کی مخالفت کریں۔
اور اللہ عزوجل کو مضبوطی سے تھامنے، کثرت سے اس کی طرف رجوع کرنے اور اس سے شیطان کی پناہ مانگنے کو اپنا ہتھیار بنائیں ۔ اللہ سبحانه وتعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں، اس کی اطاعت کو مضبوطی سے اختیار کریں، کثرت سے استغفار، دعا اور ذکر کریں۔
شیطان اللہ ﷻ کے ذکر سے بڑھ کر کسی چیز سے اس طرح پیچھے نہیں ہٹتا ، جب تم اللہ ﷻ کو یاد کرتے ہو تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے ، اور جب تم غافل ہوجاتے ہو تو وہ تمہاری طرف متوجہ ہوجاتا ہے ۔
اللہ سبحانه وتعالیٰ کی ہر وہ اطاعت جسے ہم اپنے دلوں اور اعضاء کے ذریعے انجام دیتے ہیں، ہمیں اللہ سبحانه وتعالیٰ کے قریب کرتی اور شیطان کو ہم سے دور کرتی ہے۔ کبھی ہم شیطان کی اپنی طرف سے کی جانے والی سازش سے غافل ہوجاتے ہیں، اور کبھی ہم میں سے کوئی شخص یہ کہتا ہے: ( میں اپنے ارادے اور اپنی آزادی سے کام کرتا ہوں، اس میں شیطان کا کیا دخل ہے؟)
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سوچ اور یہ بات اللہ سبحانه وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی بات کی حقیقت سے بہت بڑی لاعلمی کی دلیل ہے ، کیونکہ یہ بات متفق علیہ اور معروف ہے کہ شیطان انسان کا دشمن ہے، اور شیطان ابنِ آدم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔
انسان کو شیطان کی طرف سے پریشانی اور گمراہی کا آغاز آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ حواء علیہا السلام کے واقعے سے ہوا، جب شیطان نے ان دونوں کو وسوسہ دیا اور اس درخت سے کھانے پر آمادہ کیا جس سے اللہ سبحانه وتعالیٰ نے انہیں منع فرمایا تھا۔
شیطان پہلے فرشتوں کے ساتھ ایک عبادت گزار ، اور نیك شخص تھا، لیکن جب اللہ سبحانه و تعالیٰ نے اسے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا : تو اس نے ان کے ساتھ سجدہ کرنے سے انکار کیا اور تکبر کیا۔ چنانچہ اللہ سبحانه وتعالیٰ نے اسے نکال دیا، اس پر لعنت کی، اسے اپنی رحمت سے دور کردیا اور اس سے ناراض ہوگیا۔ اس کے بعد شیطان نے بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لیے خود کو وقف کرلیا۔ اللہ سبحانه وتعالیٰ فرماتا ہے: ﴿الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ وَاللهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلًا﴾
ترجمه : ( شیطان تمہیں فقر و محتاجی کا وعدہ دیتا ہے اور تمہیں بے حیائی کا حکم دیتا ہے، جبکہ اللہ ﷻ تم سے اپنی مغفرت اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے۔

شاركنا بتعليق


5 + ثلاثة عشر =




بدون تعليقات حتى الآن.