شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ بندے کا اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے کسی صفت کی عبادت کرنا کیا یا اس صفت کے ساتھ دعا کرنا
یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ رحمن کی فرما برداری کرنے والوں کی نسبت نافرمانوں کی تعداد زیادہ ہوگی، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے – {وَاِنَّ كَثِيْـرًا مِّنَ النَّاسِ
موبائل ایک گہرا سمندر ہے، اس میں بھلائیاں بھی ہیں، توفیق اس کو ملی جسے اللہ تعالیٰ اس کے فتنوں سے بچا کر ثابت قدمی عطا فرمائے.
شیخ علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ مردوں سے دعا کا کیا حکم ہے؟ آپ نے جواب دیا دعا کی دو قسمیں ہیں، پہلی قسم دعاءِ عبادت
ابن سعد فرماتے ہیں، ہمیں واقدی نے بتایا، فرمایا جب مالک کو بلایا گیا اور مشاورت ہوئی انہیں سنا گیا انکی بات کو قبول کیا گیا تب ان سے حسد
انسان اپنے ہم نشینوں سے متاثر ہوتا ہے، اسکی پہچان اس کے ساتھیوں سے ہوتی ہے، مسلمان اکیلا ہو تو اللہ تعالیٰ کی بندگی میں بھی کمزور پڑ جاتا ہے،
ہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کیلئے صراط مستقیم کی طرف توفیق کا نام ہے، ہدایت کی جگہ دل ہے، ہدایت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، وہ
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا، جس نے مجھے اپنے نفس میں یاد کیا میں اسے اپنے نفس میں یاد کروں گا
اے مسلم بہن! ہوش کے ناخن لیں، فتنے کا سبب نہ بنو، عورت کو مردوں کے لیے خاص کاموں میں لانے کی دعوت دینا اسلامی سماج میں بہت خطرناک معاملہ
حماد بن سلمہ کہتے ہیں ہمیں ثابت نے بتایا کہ صلہ کسی غزوے میں شریک تھے ان کے ان کا بیٹا بھی تھا اس نے بیٹے سے کہا اے میرے