شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے اللہ عزوجل کے دیدار سے متعلق سلف کا مذہب کیا تھا پوچھا گیا؟ اور جو لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا بشارت دے دو اندھیروں کے وقت مسجد میں جانے والوں کو کہ قیامت کے دن انھیں مکمل و تمام تر نُور
لوگوں پر شہوات اور شبہات کے فتنے آئیں گے لیکن وہ ان کے ساتھ نمٹنے میں حق پر انکی قوت استقامت و ثبات کے لحاظ سے مختلف ہوں گے.
عبدالوهاب بن عبدالعزيز تمیمی حنبلی کہتے ہیں ہمیں ابو الحسن عتکی نے بتایا کہ میں نے ابراہیم حربی سے سنا ہے وہ ان کے پاس ایک جماعت سے مخاطب تھے
ایک میگزین میں شیخ سے اس بابت پوچھا گیا کہ کاتب کا یہ قول کہ “اللہ تعالیٰ کا نزول ایک ایسے وقت میں ہوتا ہے جس کے متعلق اللہ کے
وطن کی جدائی نفس پر کٹھن اور طبیعتوں پہ گراں گزرتی ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو مکہ مکرمہ سے نکالا گیا آپ نے مکہ پہ
جستجو اور طلب کی راہ چلنے والے کے آگے ٹھوکریں، کٹھنائیاں اور آفتیں ہیں، مدرسہ اور حفظ اگر اس کی راہ میں مشاغل اور رکاوٹیں ہوں تو اسکی تعریف نہیں
بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف زبان سے لا إله إلا الله کہہ دینا کافی ہے وہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ اس کلمہ کے کچھ ان کہے
ایک شخص اللہ کے رسول کے پاس آیا آپ پر ایمان لایا اور آپ کی پیروی کرلی اور کہا میں آپکی اتباع اس بات پر کرتا ہوں کہ تیر آئے
توبہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا، دنیاوی آزمائش قیامت کے بڑے عذاب سے پہلے توبہ کیلئے فرصت ہے. اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے. {وَلَنُذِيْقَنَّـهُـمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ