شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کچھ لوگ زنجیروں، لوہے اور ہتھیاروں سے خود کو مارتے ہیں اور انہیں کچھ نہیں ہوتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ
ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : بصیرت دل کی روشنی ہے جس کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کے وعد و وعید، جنت جہنم اور اس میں جو کچھ تیار
گناہوں کی طرف واپس پلٹنا اور حق پر ثابت قدم نہ رہنے کے اسباب میں سے شیطان کے راستے کی پیروی اور لمبی خواہشات ہیں – اللہ تعالیٰ نے فرمایا
ازرق بن قیس فرماتے ہیں : ہم نہرِ اہواز کے کنارے تھے کہ ابو برزہ اپنے گھوڑے کو چلاتے ہوئے آئے اور عصر کی نماز میں شامل ہوگیے – ایک
عقلمند انسان کو دن رات موت کی یاد کرنی چاہئے ایسی یاد جو دل سے ہو جو خواہشات کا مقابلہ کرے،بے شک موت کو کثرت سے یاد کرنے میں برائیوں
بے شک توفیق یافتہ ہے وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کیلئے ہر طرح کی جدوجہد کرتا ہے، افضل اوقات اور شریف لمحات کی جستجو کرتا ہے،
دعا : امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : دعا تمام ادویات میں سے سب سے فائدہ مند ہے، یہ آزمائش کی دشمن ہے، اسے دور کرتا ہے، علاج
ابی عمرو حافظ بخاری سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ امام بخاری کے امتحان وآزمائش کا سلسلہ اس طرح شروع ہوا کہ شہر بخارا کا گورنر اور طاھریہ کا
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ بندے کا اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے کسی صفت کی عبادت کرنا کیا یا اس صفت کے ساتھ دعا کرنا
یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ رحمن کی فرما برداری کرنے والوں کی نسبت نافرمانوں کی تعداد زیادہ ہوگی، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے – {وَاِنَّ كَثِيْـرًا مِّنَ النَّاسِ