ایک غلط عقیدہ یہ ہے کہ مردہ اگر درندوں نے کھا لیا تو وہ قبر کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے۔ کسی سے سوال کیا گیا: “اگر مردہ دفن نہ
ابو محمد المقدسی رحمة الله عليه نے فرمایا: اگر قبروں پر سراج (روشنی) رکھنا جائز ہوتا تو جس نے یہ کیا اس پر لعنت نہیں ہوتی۔ لیکن اس میں دولت
علامہ عبد الرحمن بن ناصر السعدی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا: جب کوئی بندہ اپنی نماز اس طریقے سے قائم کرے جیسا کہ اس پر واجب ہے، تو اس کا
پس آخرت پر ایمان رکھنے والے مؤمن لوگ زندگی کو صرف شہوتوں اور آرائش کے طور پر نہیں دیکھتے، بلکہ وہ اسے ایک کھیت کے طور پر دیکھتے ہیں جس
نمّام دیکھتا ہے کہ مثال کے طور پر دو افراد کے درمیان صلح، محبت، بھائی چارہ اور ہم آہنگی ہے، تو وہ انہیں الگ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور
غلط فہمی : صرف کافر پر قبر کا عذاب ہوتا ہے۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالى سے سوال کیا گیا: کیا قبر کا عذاب صرف کافر کے لیے ہے
قصص و عبرت: ابو الفرج بن الجوزی رحمہ اللہ نے کہا: “جوہر القائد نے ابو تمیم، حاکمِ مصر، کے حکم سے ابو بکر النابلسی کو قید کر رکھا تھا۔ وہ
رویّے اور ایمانیات: ابو الوفاء بن عقيل نے کہا: (جب احکام عام لوگوں اور خواہشمندوں پر مشکل ہوگئے تو انہوں نے شریعت کے اصولوں سے ہٹ کر اپنی وضع کی
استقامت کی تربیت: .خواہشات اور شبہات کے درمیان، جو لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں اور ان کے دین کو کمزور اور دلوں کو بھٹکا دیتی ہیں، حقیقت کی دنیا
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ( اسلام میں نماز چھوڑنے والے کا کوئی حصہ/نصیب نہیں ہے) يعني: اسلام میں نماز چھوڑنے والے کی کوئی جگہ نہیں ہے).