بندے کا اپنا محاسبہ کیسے ہونا چاہیے؟ بندے کو چاہیے کہ سب سے پہلے اپنے آپ کا محاسبہ فرائض کے بارے میں کرے؛ اگر ان میں کوئی کوتاہی یا کمی
خواہشات اور شبہات کی آزمائشیں لوگوں پر آتی ہیں، اور لوگ ان کے ساتھ مختلف طریقوں سے نمٹتے ہیں، ان کے حق پر ثابت قدم رہنے کی طاقت کے مطابق۔
چھٹا : اعمال ،اقوال اور نیتوں کی نگرانی ،مراقبہ بندے کا یہ جاننا ہے کہ اللہ تعالی سے اس کا ظاہر اور اس کا باطن کچھ پوشیدہ نہیں ہے،بندے کا
ابی عالیہ سے وہ کہتے ہیں اللہ تعالی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جو بھی اس پر ایمان لائیگا وہ اسے ہدایت دے گا ۔ اسکی دلیل اللہ تعالی
شیخ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ ہم دیکھتے ہیں بہت سارے لوگ تعزیت کیلئے تین دن مختص کرتے ہیں ۔ اہل میت گھر بیٹھتے ہیں لوگ آتے ہیں تعزیت
دوسری قسم : عمل کے بعد نفس کا محاسبہ اور اسکی تین قسمیں ہیں : اول :نفس کا اس بات پر محاسبہ کرنا کہ اللہ کے حقوق کی بجا آوری
اگر ہم سے کہا جائے کہ ہمارے کچھ دشمن ہمیں ہمارے دین سے پھیر رہے ہیں آخرت سے غافل کر رہے ہیں ہمارے قیمتی اوقات چوری کر رہے ہیں ،ہمارا
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ بعض ممالک میں یہ رواج ہے کہ جو لوگ تعزیت کیلئے آتے ہیں ایک رجسٹرڈ میں انکے ناموں کا اندراج ہوتا
ابو عمر بن عبدالبر نے کہا میں نے عبداللہ بن محمد بن اسد کو سنا میں نے حمزہ کنانی کو سنا وہ کہتے ہیں میں نے ایک حدیث کو ایک
لوگوں نے اس بات پر اختلاف کیا ہے کہ نفس ایک ہے کہ تین اور یہ کہ نفس مطمئنہ،نفس لوامہ ،نفس امارہ اسی ایک کے اوصاف ہیں کہ الگ الگ۔